ہندو ستان میں صحافت کی حالت دگرگوں، ایوارڈ فنکشن میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مدن بی لوکر کا خطاب
نئی دہلی: ہندوستان میں صحافت کی دگرگوں حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ)مدن بی لوکر نے کہاکہ عدلیہ اور پریس ”ہماری جمہوریت کے دو اہم ستون ہیں اور دونوں کواہم کردار ادا کرنا چاہئے ۔ یہ بات انہوں نے نئی دنیا فاؤنڈیشن کے میڈیا فار یونٹی ایوارڈز 2025 میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت اور عدلیہ کی آزادی دونوں پر حملے ہو رہے ہیںعدلیہ کو ایک مختلف قسم کا حملہ محسوس ہوا، اور یہ کیسوانند بھارتی کے فیصلے سے نکلا(ہندوستانی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریے پر) لیکن اس کے فوراً بعد، 1975 میں ہمیں ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا اور پریس کو شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ عدلیہ اور پریس دونوں کو سخت امتحان کا سامنا کرنا پڑااور اس کے بعد کچھ تاریخی فیصلے آئے اور عدلیہ اور پریس دونوں کی واپسی ہوئی۔سپریم کورٹ کے سابق جج نے کہا کہ آج پھر پریس کی آزادی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہو رہا ہے ۔ پریس اور عدلیہ کی آزادی پر حملے کا انداز مختلف ہے لیکن حملہ جاری ہے ۔یہ بتاتے ہوئے کہ جیل میں صحافیوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ ہیں۔ جسٹس لوکرنے عمر خالد اور گلفشاں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ کہا کہ یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ضمانت کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ اس لیے ہے کہ عدلیہ ان لوگوں کو ضمانت دینے سے ڈرتی ہے حالانکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کو ہنگامی صورتحال سے تشبیہ دی اور کہا کہ آزادی صحافت اور عدلیہ کی آزادی دونوں ہی حملے کی زد میں ہیں۔سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ہندوستانی میڈیا کی کرتی ہوئی شاخ پر افسوس کا اظہار کیاا اور کہا کہ ہندوستانی میدیا کی معتبریت کا یہ حال ہوگیا ہے کہ اس کی رینکنگ گرتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 180 میں ہماری رینکنگ 159ہے ۔ ہم اپنے پڑوسی ملک سے بھی نیچے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا والے ہر روز رات نو بجے قوم کو بتانے لگ جاتے ہیں کہ صورت حال کیا ہے ، اگر وہ صحیح صورت حال بتاتے تو ہماری ریننگ اچھی ہوتی۔انہوں نے کہاکہ یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے کہ بہت سے چھوٹے ممالک کی رینکنگ ہندوستان سے اچھی ہے ۔ انہوں نے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی میڈیا کی جو کچھ بھی تھوڑی بہت عزت ہے وہ آپ کی وجہ سے ہے ۔ اس صورت حال میں بھی آپ نے سچ کا دامن تھامے رکھا ہے ۔