فرقہ پرستوں کی کوششوں کو ناکام بنانا صحافیوں کا فرض ، اردو اور مسلمانوں سے ناانصافی ناقابل برداشت ، چندرسریواستو کی تہنیتی تقریب سے عامر علی خاں ، اسد اویسی ، سرینواس ریڈی کا خطاب
حیدرآباد : /24 جولائی (محمد ریاض احمد ) ملک میں نہ صرف آزادی صحافت خطرہ میں ہے بلکہ جمہوریت اور سیکولرازم کو بھی شدید خطرات ہیں اس ملک میں رام راج کے نام پر جمہوریت اور سیکولرازم کو دفن کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہیں ۔ ایسے میں عوام اور صحافیوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان کوششوں کو ناکام بنانے اٹھ کھڑے ہوں اگر عوام اور دیانتدارانہ صحافت اس سے وابستہ بیباک صحافی ملک ، جمہوریت سیکولرازم ہماری گنگاجمنی تہذیب کو بچانے آگے بڑھتے ہیں تو پھر حالات کا رخ موڑا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک صحافت سے تعلق ہے صحافت ایک مشن ہے اور میرا یہ ایقان ہے کہ صحافی معاشرہ کا جز ہوتا ہے ۔ ایسا جز جو صحتمندانہ معاشرہ کی تشکیل ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے اردو صحافت کے 200 سالہ جشن کے ضمن میں منعقدہ ’جشن اردو صحافت ، چندر سریواستو کے ساتھ ‘ پروگرام سے خطاب میں جناب چندر سریواستو (محمد حسین علی خاں) نے کیا ۔ اس موقع پر صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ جناب اسد الدین اویسی ، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، صدر انڈین جرنلسٹس یونین مسٹر کے سرینواس ریڈی ، اعزاز قونصل جنرل جمہور یہ قازقستان ڈاکٹر ناصر علی خان ، صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی جناب محمد سلیم ، صدر فیڈریشن جناب ایم اے ماجد ، جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر اعتماد ، سینئر صحافی شوکت علی خاں اور دیگر موجود تھے ۔ جناب ظفر جاوید نے صدارت کی ۔ تقریب میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے 200 سالہ جشن اردو صحافت کے لوگو کی اجرائی بھی عمل میں آئی ۔ جناب چندر سریواستو نے سقوط حیدرآباد سے قبل اور بعد کے حالات اور واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کئی انکشافات کئے ۔ ایسے انکشافات جن کے بارے میں شائد صحافیوں کی موجودہ نسل واقف نہیں ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رضاکاروں کو بہت برا بھلا کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قاسم رضوی نے کبھی ہندووں کے خلاف بات نہیں کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہندو مسلم اتحاد کی بات کی جائے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ شائستگی و تہذیب و ادب و روایات و رسم رواج اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی (انسانی رشتوں کی بنیادی ہم آہنگی ) گنگا جمنی تہذیب ہوا کرتی تھی اب گنگا جمنی تہذیب کہاں ہے شائد فوت ہوچکی ہے اس کی کئی برسیاں ہوچکی ہوں گی ۔ چندر سریواستو نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے دی ہندو اخبار کا مطالعہ کیا اور پھر گجویل میں اپنے والد کے تبادلہ کے بعد وہاں آنا جانا ہوا کرتا تھا ۔ وہیں روپوش کمیونسٹ کمانڈر اٹلور رامچندر سے ملاقات اور دلتوں سے کی جانی والی ناانصافیوں کے باعث پیشہ صحافت میں آنے کی ترغیب ملی ۔ چندر سریواستو نے بتایا کہ گجویل میں اس وقت کوئی اردو اخبار نہیں آتا تھا ۔ ابراہیم علی خاں تحصیلدار تھے ان سے بات کرکے وہ (چندر سریواستو) عبدالکریم نامی ایک مقامی شخص کو لے کر دفتر سیاست پہنچے اور عبدالکریم کو نامہ نگار بناکر اخبار سیاست گجویل کیلئے جاری کرنے کی درخواست کی اس طرح وہاں سیاست کی 9 کاپیاں آنے لگیں ۔ سب سے پہلا مضمون انہوں نے ملاپ کیلئے لکھا اور پھر جگر صاحب نے باگا ریڈی پر مضمون لکھنے کہا جس پر اس وقت 50 روپئے نذرانہ پیش کیا گیا ۔ بھارت نیوز سے وابستہ ہوئے اور جناب اعجاز قریشی کے ساتھ اردو صحافت کو فروغ دیا ۔ انہوں نے ماں‘ مادری زبان مادر وطن کو انسان کی اہم پہچان قرار دیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان مرکر بھی اصل زمیندار ہوتا ہے ۔ چندر سریواستو نے پرزور انداز میں کہا کہ جب تک جنوبی ہند Surrender نہیں ہوگا زعفرانی طاقتیں ہندو راشٹر قائم نہیں کرسکتیں ۔ جناب چندر سریواستو نے شہ نشین پر جناب عامر علی خاں اور جناب اسد الدین اویسی کی موجودگی پر بے پناہ مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایسا لگتا ہے کہ جگر کے دو ٹکڑے ملے ہیں ۔ دو کناروں کا ملن ہوا ہے اور اس منظر سے عوام کو راحت ہوگی ۔ مہمان اعزازی و نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اردو زبان اور اردو صحافت کی تحریک آزادی میں اہم کردار اور آزادی کے بعد حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج اردو اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی ممکنہ کوشش کی جارہی ہیں ۔ حالانکہ مسلمانوں اور اردو صحافیوں نے ملک کی آزادی کیلئے اپنا خون دیا ، قربانیاں پیش کی ہیں ۔
مسلم اقلیت کے ساتھ جو کچھ ظلم و جبر ہورہا ہے ناانصافیاں ہورہی ہیں اس کے باوجود مسلمان کو ملک کی مٹی اس کے ذرہ ذرہ سے پیار ہے ۔ وہ ہندوستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاتے ۔ حال ہی میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کی مدیران اخبارات کے ساتھ ملاقات پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ببانگ دہل واضح کیا کہ وزیراعظم ہو یا وزیر داخلہ ان کے بیانات اردو اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں لیکن جواب میں اردو اور مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ گجرات میں ٹرین میں آگ لگتی ہے کچھ قیمتی انسانی جانیں جاتی ہیں تو مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے ۔ مسلمان احتجاج کرتے ہیں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں ، اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ٹرینوں کو جلایا گیا ۔ سرکاری املاک تباہ و برباد کردی گئی ، ہزاروں کروڑوں کا نقصان ہوا لیکن کسی احتجاجی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلا ۔ آخر یہ دو رخی پن اور جانبداری کیوں ؟ کیا یہ جانبداری ملک کے مفاد میں بہتر ہوگی ؟ ہرگز نہیں ، جناب عامر علی خاں نے کہا کہ اقتدار کیلئے آپ جو زہر گھول رہے ہیں اس سے صرف ملک کا نقصان ہے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اس ملک کو صرف امن و اعتماد اور سب کے ساتھ مساویانہ سلوک و انصاف کے ذریعہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے فیڈریشن کو ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ اس سے پہلے عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر اعتماد نے چندر سریواستو کی صحافتی خدمات پر پراثر انداز میں روشنی ڈالی ۔ سینئر صحافی شوکت علی خاں نے بھی جناب چندر سریواستو کے صحافتی کیرئیر اور بھارت نیوز میں جناب اعجاز قریشی مرحوم کی رفاقت کا خاکہ کھینچ کر پرانی یادیں تازہ کردیں ۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے اپنے 200 سالہ جشن اردو صحافت کے ضمن میں بزرگ و سینئر صحافیوں کو تہنیت پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس پر مسرت کا اظہار کیا اورکہا کہ مرحوم سالار ملت کے ساتھ جناب چندر سریواستو کی دیرینہ وابستگی تھی اور وہ بچپن سے انہیں اپنے مرحوم والد کے ہمراہ دیکھا کرتے تھے ۔ انہوں نے چندر سریواستو کو ایک افسانوی شخصیت قرار دیا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر مرحومین کی قربانیوں کو یاد کرکے خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے بزرگ صحافیوں کو ان کی حیات میں ہی تہنیت پیش کرنے کا سلسلہ شروع کرکے اچھی مثال قائم کی ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج نوجوان نسل کو آزادی میں مسلمانوں اور اردو صحافت کے کردار سے واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے فیڈریشن کی جانب سے اردو صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں کہا کہ وہ ان مسائل کو حل کروائیں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی کی صدارت کسی اردو صحافی کو دیئے جانے کے مطالبہ پر کہا کہ جب بھی چیف منسٹر سے ملاقات ہوگی وہ اس سے چیف منسٹر کو واقف کروائیں گے ۔ انڈین جرنلسٹس یونین کے صدر کے سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کو چاہیے کہ وہ اردو صحافت کی تکمیل کے 200 سالہ جشن کو سرکاری پیمانے پر منائے ۔ وزیر داخلہ جناب محمود علی بھی جو مصروفیات کے باعث شریک نہ ہوسکے اپنا پیام بھیجا جسے فیڈریشن کے خازن جناب محمد ریاض احمد نے پڑھکر سنایا ۔ ابتداء میں صدر فیڈریشن جناب ایم اے ماجد نے خیرمقدمی خطاب کیا ۔ حبیب جیلانی نے کارروائی چلائی ۔ سکریٹری محمد غوث مدنی نے مہمانوں اور اہم شخصیتوں کی شال پوشی کی ۔ آخر میں سینئر صحافی امجد علی نے شکریہ ادا کیا ۔ صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم نے دلچسپ خطاب کیا اور صحافیوں کی ممکنہ مددکا اعلان کیا ۔
مسلم اقلیت کے ساتھ جو کچھ ظلم و جبر ہورہا ہے ناانصافیاں ہورہی ہیں اس کے باوجود مسلمان کو ملک کی مٹی اس کے ذرہ ذرہ سے پیار ہے ۔ وہ ہندوستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاتے ۔ حال ہی میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کی مدیران اخبارات کے ساتھ ملاقات پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ببانگ دہل واضح کیا کہ وزیراعظم ہو یا وزیر داخلہ ان کے بیانات اردو اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں لیکن جواب میں اردو اور مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ گجرات میں ٹرین میں آگ لگتی ہے کچھ قیمتی انسانی جانیں جاتی ہیں تو مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے ۔ مسلمان احتجاج کرتے ہیں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں ، اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ٹرینوں کو جلایا گیا ۔ سرکاری املاک تباہ و برباد کردی گئی ، ہزاروں کروڑوں کا نقصان ہوا لیکن کسی احتجاجی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلا ۔ آخر یہ دو رخی پن اور جانبداری کیوں ؟ کیا یہ جانبداری ملک کے مفاد میں بہتر ہوگی ؟ ہرگز نہیں ، جناب عامر علی خاں نے کہا کہ اقتدار کیلئے آپ جو زہر گھول رہے ہیں اس سے صرف ملک کا نقصان ہے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اس ملک کو صرف امن و اعتماد اور سب کے ساتھ مساویانہ سلوک و انصاف کے ذریعہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے فیڈریشن کو ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ اس سے پہلے عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر اعتماد نے چندر سریواستو کی صحافتی خدمات پر پراثر انداز میں روشنی ڈالی ۔ سینئر صحافی شوکت علی خاں نے بھی جناب چندر سریواستو کے صحافتی کیرئیر اور بھارت نیوز میں جناب اعجاز قریشی مرحوم کی رفاقت کا خاکہ کھینچ کر پرانی یادیں تازہ کردیں ۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے اپنے 200 سالہ جشن اردو صحافت کے ضمن میں بزرگ و سینئر صحافیوں کو تہنیت پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس پر مسرت کا اظہار کیا اورکہا کہ مرحوم سالار ملت کے ساتھ جناب چندر سریواستو کی دیرینہ وابستگی تھی اور وہ بچپن سے انہیں اپنے مرحوم والد کے ہمراہ دیکھا کرتے تھے ۔ انہوں نے چندر سریواستو کو ایک افسانوی شخصیت قرار دیا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر مرحومین کی قربانیوں کو یاد کرکے خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے بزرگ صحافیوں کو ان کی حیات میں ہی تہنیت پیش کرنے کا سلسلہ شروع کرکے اچھی مثال قائم کی ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج نوجوان نسل کو آزادی میں مسلمانوں اور اردو صحافت کے کردار سے واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے فیڈریشن کی جانب سے اردو صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں کہا کہ وہ ان مسائل کو حل کروائیں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی کی صدارت کسی اردو صحافی کو دیئے جانے کے مطالبہ پر کہا کہ جب بھی چیف منسٹر سے ملاقات ہوگی وہ اس سے چیف منسٹر کو واقف کروائیں گے ۔ انڈین جرنلسٹس یونین کے صدر کے سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کو چاہیے کہ وہ اردو صحافت کی تکمیل کے 200 سالہ جشن کو سرکاری پیمانے پر منائے ۔ وزیر داخلہ جناب محمود علی بھی جو مصروفیات کے باعث شریک نہ ہوسکے اپنا پیام بھیجا جسے فیڈریشن کے خازن جناب محمد ریاض احمد نے پڑھکر سنایا ۔ ابتداء میں صدر فیڈریشن جناب ایم اے ماجد نے خیرمقدمی خطاب کیا ۔ حبیب جیلانی نے کارروائی چلائی ۔ سکریٹری محمد غوث مدنی نے مہمانوں اور اہم شخصیتوں کی شال پوشی کی ۔ آخر میں سینئر صحافی امجد علی نے شکریہ ادا کیا ۔ صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم نے دلچسپ خطاب کیا اور صحافیوں کی ممکنہ مددکا اعلان کیا ۔