جنگی حالات سے تلنگانہ تارکینِ وطن کے خاندانوں میں اضطراب

   

نظام آباد و کاماریڈی کے ہزاروں افراد روزگار کیلئے خلیج میں مقیم ، اہل خانہ پریشان ، روس میں پھنسے نوجوانوں کی سلامتی پر بھی تشویش

نظام آباد: 13 اکتوبر (محمد جاوید علی کی رپورٹ) بہتر مستقبل، قرضوں کی ادائیگی اور بچوں کی تعلیم و پرورش کیلئے بیرونِ ملک جانے والے تلنگانہ کے نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع کے کئی خاندان آج اپنے عزیزوں کی سلامتی کیلئے فکرمند ہیں۔ روس۔یوکرین جنگ میں پھنسے نظام آباد ضلع کے تین نوجوانوں کی واپسی کیلئے اہلِ خانہ مسلسل کوشش کررہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ روس میں موجود بانسواڑہ کے محمد افضل خان کی یوکرینی ڈرون حملے میں موت کی اطلاع نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوائی اڈے پر میزائل حملے کے دوران کاماریڈی کے شیخ سعید کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع پر ان کے اہلِ خانہ پریشان ہیں اور ان کی صحت یابی کیلئے دعائیں کررہے ہیں۔ تاہم افضل خان کی موت کی روسی حکومت یا ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے تاحال سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، جس کے باعث ان کے خاندان کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بانسواڑہ منڈل کے تاڈکول گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد افضل خان، جکران پلی منڈل کے منی پلی تانڈہ کے بھوکیا رویندر، سرکنڈہ منڈل کے پیڈا والگوٹ کے سرشو اشوک اور دھرمپلی منڈل کے دمنا پیٹ تانڈہ کے میگھاوَت پرکاش روزگار کی تلاش میں رواں سال فروری میں روس گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر چھ ماہ تک کام کرنے کے بعد ایجنٹ نے ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور انہیں واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر ایک شخص کے ذریعے انہیں روسی فوج میں باغبانی، سامان کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ جیسے کاموں کیلئے بھرتی کرایا گیا، لیکن بعد میں انہیں یوکرین کے جنگ زدہ علاقے میں تعینات کردیا گیا۔ خاندانوں کے مطابق ان نوجوانوں کو جنگی حالات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پیڈا والگوٹ سے تعلق رکھنے والے سرشو اشوک نے اپنی اہلیہ سَریتا کو بھیجے گئے وائس میسیج میں روس کے جنگلات میں درپیش دشواریوں اور ہندوستانیوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا۔ اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے ساتھ موجود محمد افضل خان تقریباً 15 روز قبل یوکرینی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔ اشوک نے یہ بھی بتایا کہ وہ جنگی علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کے بعد دوبارہ پکڑا گیا اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر توثیق نہیں ہوسکی ہے۔ بھوکیا رویندر، میگھاوَت پرکاش اور سرشو اشوک کے اہلِ خانہ اپنے عزیزوں کی خیریت اور واپسی کے لئے مسلسل فکرمند ہیں۔ ان خاندانوں نے رورل رکن اسمبلی بھوپتی ریڈی سے ملاقات کرکے نمائندگی کی اور حیدرآباد کے پرجا بھون میں منعقدہ پرجا وانی پروگرام میں بھی شکایت درج کرائی۔ رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی جانب سے مرکزی وزارتِ خارجہ اور ماسکو میں ہندوستانی سفارت خانے کو خطوط روانہ کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ پیر کے روز متاثرہ خاندانوں نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے سے ملاقات کرکے اپنے عزیزوں کو بحفاظت ہندوستان واپس لانے کی اپیل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع کے بعض افراد ماضی میں روس سے واپس آچکے ہیں، لیکن ان تین نوجوانوں کے بارے میں واضح معلومات نہ ملنے سے خاندانوں کی پریشانی برقرار ہے۔ ادھر کاماریڈی شہر کے سائلانی بابا کالونی کے رہنے والے شیخ سعید گزشتہ 12 برس سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ریاض کے بین الاقوامی فہد ایئرپورٹ پر واقع اسٹاربکس میں ملازمت کرتے ہوئے اپنے خاندان کی کفالت کررہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے میزائل حملے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور انہیں کنگ فہد آرمڈ فورسز اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، جس پر اہلِ خانہ اور رشتہ داروں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع سے ہزاروں افراد روزگار کیلئے سعودی عرب، کویت، عمان، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے علاوہ مختلف بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد تعمیراتی شعبے، صفائی اور دیگر کاموں سے وابستہ ہے۔ بہتر آمدنی، قرضوں کی ادائیگی، بچوں کی تعلیم اور گھر کی تعمیر جیسے خواب لے کر بیرونِ ملک جانے والے ان افراد کے خاندان اب جنگی حالات اور حملوں کے باعث خوف و اضطراب میں مبتلا ہیں۔ روس میں پھنسے نوجوانوں کے معاملے میں موت کی غیر مصدقہ اطلاع اور دیگر افراد کی سلامتی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال، جبکہ سعودی عرب میں شیخ سعید کی تشویشناک حالت، ان خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ ہند اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ روس میں پھنسے نوجوانوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرکے انہیں بحفاظت وطن واپس لانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔