جوابی حملہ میں تیزی کیلئے مغربی ہتھیار درکار : زیلنسکی
کیف : یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے میں جون میں روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی شروع کرنا چاہتا تھا، اسی بناپر مغربی اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو تیز کر دیں۔زیلنسکی نے مزید کہا کہ میں چاہتا تھا کہ ہمارا جوابی حملہ بہت پہلے ہو کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ اگر جوابی حملہ بعد میں ہوا تو ہمارے علاقے کے ایک بڑے حصے پر حملہ کردیا جائے گا۔ اس اس ہم اپنے دشمن کو مزید مواقع فراہم کریں گے کہ وہ ان علاقوں میں بارودی سرنگیں لگائیں اور اس دوران اپنی دفاعی لائن مضبوط کرلے۔ زیلنسکی نے ان خیالات کا اظہار اانہوں نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کیا۔یو کرینی صدر نے مزید کہا کہ میدان جنگ کی مشکلات نے یوکرینی افواج کی جوابی کارروائی کی رفتار کو سست کر دیا۔ اس جوابی کارروائی کا مقصد فروری 2022 سے مشرق اور جنوب میں روس کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے۔مزید برآں زیلنسکی نے بار بار امریکہ اور مغربی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ یو کرینی افواج کو مزید جدید ہتھیار فراہم کریں۔ جیسا کہ امریکی ساختہ ’’ ایف سولہ ‘‘ لڑاکا طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔