صدر کے تین فرزندان کو بھی فوجی تربیت، یوکرین کے جنگی محاذ پر جائیں گے، روسی فوجیوں کے تمغے چھین لئے جائیں
دوشنبہ : چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں تصدیق کردی کہ ان کے 14 میں سے 3 بچے یوکرین جنگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ویڈیو میں بچوں کو فوجی تربیت کامظاہرہ کرتے بھی دیکھا جا سکتا۔چیچن صدر نے بتایا کہ ان کے بیٹے 16 سالہ احمد، 15 سالہ ایلی اور 14 سالہ ایڈم طویل عرصہ سے مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کرنے کے طریقے سیکھ رہے اور فوجی تربیت حاصل کر رہے تھے۔قادروف نے کہا “یہی وقت ہے کہ وہ حقیقی معرکے میں دکھائی دیں، میں صرف ان کے عزم کی تعریف کر سکتا ہوں”۔ انہوں نے مزید کہا میرے بیٹے جلد ہی یوکرین کی جنگ کے مشکل ترین خطوں میں فرنٹ لائن پر جائیں گے۔چیچن صدر نے پیر کو ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ میں ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہوں کہ ایک باپ کا بنیادی کام اپنے بچوں کو عقیدت سکھانا اور یہ بتانا ہے کہ اپنے خاندان، اپنی قوم اور اپنے ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا “جو امن چاہتا ہے، وہ جنگ کی تیاری کرے”یاد رہے قادروف نے گزشتہ ہفتے روس سے یوکرین میں محدود جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مشورہ بھی دے ڈالا تھا۔ تاہم کریملن نے اسے ان کا جذباتی رد عمل قرار دیا تھا۔لیمان کا مرکزی اہمیت کا حامل علاقہ روس کے ہاتھ سے جانے کے بعد قادروف نے شہر کے اطراف آپریشنز کے انچارج روسی جنرل الیگزینڈر لاپین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔رمضان قادروف نے یہ تک کہ ڈالا تھا کہہ روسی فوجی کمانڈروں سے ان کے تمغے چھین کر انہیں بندوق پکڑائی جائے اور لڑنے کے لیے محاذ پر بھیج دیا جائے۔ تاکہ یہ اپنی شرمندگی کو اپنے خون سے دھو سکیں۔ ‘قادروف اور اس کی ملیشیا ” قادیروفتسی‘‘اس وقت یوکرین کی سرزمین پر روسیوں کی حمایت میں لڑ رہی ہے، تاہم ان پر خود چیچنیا میں متعدد ظالمانہ کارروائیوں کا الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں ہار اور جیت تو ہوتی ہے لیکن ملک کی سلامتی کیلئے جان کی بازی لگادینے والوں کو سراہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ روسی فوجی جنگی محاذوں پر جانے سے ڈرتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ملک کی شکست کا باعث بنتے ہیں۔ جب معرکہ آرائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے تو فوج میں بھرتی ہی کیوں ہوئے؟ اسی لئے میں اپنے فرزندان کے عزم کی تعریف کرتا ہوں۔