کانگریس ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے کئی قائدین سرگرم ۔ ہائی کمان نے ابھی غور نہیں کیا
حیدرآباد۔19۔جون(سیاست نیوز) جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا ٹکٹ حاصل کرنے سیاست ابھی سے گرمانے لگی ہے اور اس نشست سے مقابلہ کیلئے دعویدار کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں جبکہ کانگریس ہائی کمان نے اس پر تاحال کوئی رپورٹ طلب نہیں کی اور نہ اس کا جائزہ لیا ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی کے متوفی رکن اسمبلی ماگنٹی گوپی ناتھ کے رشتہ دار کو ہی اپنے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا ذہن بناچکی ہے لیکن کانگریس میں حلقہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں ٹکٹ کے دعویداروں کی فہرست طویل ہونے کا امکان ہے ۔سابق کرکٹ کپتان و کانگریس قائد جناب محمد اظہر الدین جو کہ 2023 اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے شکست کھا چکے ہیں انہوں نے دوبارہ ٹکٹ کیلئے دعویداری پیش کرکے یہ اعلان کردیا کہ وہ دوبارہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے مقابلہ کرنے والے ہیں جبکہ پارٹی میں دیگر کئی دعویدار اس نشست سے ٹکٹ کے خواہاں ہیں اور وہ کوشش کرنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق جوبلی ہلز حلقہ کے ضمنی انتخابات میں اقلیتی قائد کے بجائے غیر اقلیتی قائد کو امیدوار بنانے کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ حکومت سے گچی باؤلی فلائی اوور کو ’پی جے آر‘ کے نام سے معنون کئے جانے پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کانگریس ‘پی جے آر کے فرزند وشنووردھن ریڈی کو امیدوار بناسکتی ہے کیونکہ وہ سابق میں اس حلقہ اسمبلی سے نمائندگی کرچکے ہیں اور گذشتہ انتخابات میں جوبلی ہلز حلقہ سے محمد اظہر الدین کو ٹکٹ دیئے جانے پر ناراض ہوکر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔وشنو وردھن ریڈی کے علاوہ پارٹی ذرائع کے مطابق نوین یادو بھی جوبلی ہلز حلقہ سے ٹکٹ حاصل کرنے کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں جبکہ اس حلقہ سے مقابلہ کیلئے ایک سے زائد اقلیتی قائدین زور آزمائی کر رہے ہیں ۔ان قیاس آرائیوں کے درمیان محمد اظہر الدین کی جانب سے جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی سے مقابلہ کے اعلان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس حلقہ اسمبلی کو کسی اور کیلئے قربان کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ متوفی رکن اسمبلی کے انتخاب پر عدالت سے رجوع ہوچکے تھے۔3