جوکووچ اور نڈال میں آج سیمی فائنل

   

پیرس۔ دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی سربیا کے نواک جوکووچ اٹلی کے ماتیو بیریٹی کے چیلنج پر 6-3، 6-2، 6-7 (5)، 7-5 سے قابو پاتے ہوئے سال کے دوسرے گرانڈ سلام فرنچ اوپن کے مردوں کے سنگلز کے سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کرلیا جہاں ان کا مقابلہ 13 مرتبہ کے چمپئن اسپین کے رافیل نڈال سے ہوگا۔ جوکووچ نے بیریٹینی کے خلاف تین بریک پوائنٹس کو بچایا جن کا انہوں کورٹ فلپ چیتریئر پر سامنا کیا ۔ پیرس میں رات کے کرفیو میں 11 بجے تک توسیع کے بعد میدان شائقین کے جوش و خروش سے گونج رہا تھا ۔ چوتھے سیٹ کے وسط میں ہی ناظرین کو اسٹیڈیم سے باہر کیا گیا لیکن جوکووچ نے اپنے تسلسل کو جاری رکھا اور ٹاپ سیڈکھلاڑی نے تین گھنٹے 28 منٹ میں میچ جیتنے کا جشن زبردست طریقہ سے منایا۔ جوکووچ اور نڈال کے مابین سیمی فائنل میچ پچھلے سال کے فائنل اور2014 اور2012 کے چمپئن شپ میچوں کی طرح ہوگا۔ یہ دونوں کے مابین58 واں میچ ہوگا۔ جوکووچ نے 2016 میں ٹرافی جیتی تھی ۔ جوکووچ نے نڈال کے خلاف کیریئر میچوں میں 29-28 کی برتری بنا رکھی ہے ، جبکہ نڈال کو کلے کورٹ میچوں میں19-7 کی برتری حاصل ہے ۔جوکووچ کی بیریٹنی کے خلاف جیت سے اپنے40 ویں گرانڈ سلام سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کرلیا ہے اور سوئزرلینڈ کے راجر فیڈرر کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس مرتبہ ٹورنمنٹ سے دستبردار فیڈرر46 مرتبہ گرانڈ سلام سیمی فائنل میں پہنچے ہیں ۔ جوکووچ کے سامنے اب نڈال کا چیلنج ہوگا جنہوں نے ارجنٹینا کے ڈیگو شرواٹزمین کے چیلنج پر دو گھنٹے 45 منٹ میں چھ۔تین، چار۔چھ ،چھ۔چار، چھ۔صفر سے قابو پایا اور 14 ویں مرتبہ سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کرلیا۔
ڈنکو کی موت پر
مودی اور رجیجو کا اظہار افسوس
نئی دہلی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے باکسر ڈنکو سنگھ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعظم مودی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ڈنکو سنگھ اسپورٹنگ سوپراسٹار اورایک شاندار باکسر تھے ۔ انہیں کئی ایوارڈزملے ۔ انہوں نے متعدد کامیابیاں حاصل کیں اور مکّے بازی کو زیادہ مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر بے حدافسوس ہوا ۔ ان کے خاندان اور چاہنے والوں کے تئیں میری تعزیت ۔ وزیرکھیل کرن رجیجو نے گولڈمیڈلسٹ ڈنکو سنگھ کے انتقال پر تعزیت ظاہر کرتے ہوئے کہا میں یہ خبر سن کر کافی دکھی ہوں۔ وہ ہندوستان کے بہترین باکسرز میں سے ایک تھے ۔ 1998 ایشین گیمس میں ان کا میڈل جیتنا ہندوستانی باکسنگ میں تبدیلی لایا تھا۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں باکسنگ کافی مقبول ہوئی ۔ ان کے افراد خاندان کو دکھ کی اس گھڑی میں ہمت ملے ۔ باکسنگ سوپر اسٹار وجندر سنگھ نے افسوس ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ڈنکو کا سفر اور جدوجہد آنے والی کئی نسلوں کے لئے ایک تحریک ہوگی۔منی پور کیچیف منسٹر این بیرن سنگھ نے بھی ڈنکو کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ۔میری کام نے لکھا کہ ڈنکو ایک راک اسٹار اورلیجنڈ تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ منی پور میں ان کا میچ دیکھنے کے لئے لوگ قطار میں کھڑے رہتے تھے ۔ وہ میرے ہیرو رہے ہیں ۔ یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ وہ کافی جلدی چلے گئے ۔