جین زی نے ڈرنا چھوڑدیا … ملک بھر میں مقدمات ختم
بھاگوت کی قلا بازی … بابر کی سرزمین سے مودی کو اعزاز
رشیدالدین
ڈرتے ہیں کس چیز سے۔ دھن دولت ، پولیس اور فوج کے باوجود ڈرتے ہیں کہ ایک دن نہتے اور غریب افراد کہیں ڈرنا چھوڑ نہ دیں۔ ملک میں Gen-Z نے حکومت سے ڈرنا چھوڑ کیا دیا ، حکومت ڈر چکی ہے۔ سپریم کورٹ بھی سہما ہوا ہے اور امیت شاہ بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں جو کام نہیں ہوسکا ، اسے Gen-Z نے ایک ماہ بلکہ محض ایک دھمکی میں کر دکھایا۔ مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے زور پر کچل دیا گیا لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کی ایک دھمکی نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور سپریم کورٹ کے ذریعہ ملک میں طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات (FIR) کالعدم کردیئے گئے ۔ ڈرتی ہے دنیا ڈرانے والا چاہئے کے مصداق Gen-Z نے جیسے ہی ڈرنا چھوڑدیا حکومت اور سسٹم کو جھکنا پڑا اور وہ عوام سے ڈرنے لگے ہیں۔ ملک کی 80 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے دستور کی دفعہ 142 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر کالعدم کردیا جن کی تعداد 150 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ حکومت اور عدلیہ کو 12 برسوں میں پہلی مرتبہ یہ احساس ہوچکا ہے کہ عوام انہیں دیکھ رہے ہیں۔ Gen-Z اور کاکروچوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے ذریعہ وزیر تعلیم دھرمیندر پرساد کا استعفیٰ حاصل کیا اور پھر انڈیا گیٹ سے کمشنر پولیس ہیڈکوارٹر تک مارچ کی دھمکی نے ملک میں تمام FIR ختم کردیئے ہیں۔ یہ محض Gen-Z اور کاکروچ جنتا پارٹی کی کامیابی نہیں بلکہ جمہوریت کی گرتی ساکھ کا تحفظ اور عدلیہ کے امیج کی بحالی کی سمت اہم قدم ہے۔ Gen-Z نے سپریم کورٹ کو موقع دیا کہ حکومت کے اشارہ اور دباؤ میں کام کرنے کے بجائے اپنا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ موقف بحال کرے۔ یہ وہی چیف جسٹس سوریہ کانت ہیں جنہوں نے جین زی کو کاکروچ اور دیمک کہا تھا۔ یہ وہی چیف جسٹس ہیں جن کے پاس طلبہ پر پولیس زیادتیوں کے ویڈیو کا مشاہدہ کرنے وقت نہیں تھا، جنہوں نے جنتر منتر پر مظالم کا مسئلہ پیش کرنے والے وکیل سے کہا تھا کہ عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ جسٹس سوریہ کانت نے جین زی کے خلاف ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آر کالعدم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ دراصل کاکروچوں کی طاقت کا عدلیہ کو اس وقت اندازہ ہوا جب حیدرآباد کی نلسار یونیورسٹی کے لا گریجویٹس نے جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں ڈگری قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا کے ہاتھوں ڈگری حاصل کرنا یقیناً لا گریجویٹس کے لئے اعزاز سے کم نہیں لیکن جسٹس سوریہ کانت کے مخالف جین زی رویہ نے ملک بھر کے کاکروچوں کو برہم کردیا۔ جسٹس سوریہ کانت جن کے ایک ریمارک نے ملک میں جین زی اور جین الفا کو بیدار کردیا اور تبدیلی کی نئی لہر نے مودی حکومت اور بی جے پی میں سونامی پیدا کردی۔ مودی حکومت نے سوچا کہ جس طرح 12 برسوں میں عوام کو دھوکہ دیا گیا ، جس طرح کسانوں سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا گیا ، اسی طرح جین زی کو بھی نمٹ لیا جائے گا۔ جنتر منتر پر احتجاج ختم کرانے کیلئے 25 جولائی کو مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے مقدمات سے دستبرداری اور مہلوک طلبہ کے لواحقین کو معاوضہ کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ دن بعد وہی ہوا جو کہ کسانوں کے ساتھ کیا گیا یعنی وعدوں سے انحراف اور یو ٹرن۔ بی جے پی اور حکومت کی یہ بھول تھی کہ اس نے نوجوانوں کی طاقت کا اندازہ کرنے میں غلطی کی۔ جب کسی طاقت اور حکومت کا خوف دل سے نکل جاتا ہے تو انقلابات جنم لیتے ہیں۔ ملک میں موجودہ سسٹم کو تبدیل کرنے کے مقصد کے تحت جنون کے انداز میں نوجوانوں نے حکومت کے خوف کو دل و دماغ سے اکھاڑ پھینکا۔ دنیا میں انقلابات کی تحریکات کا جائزہ لیں تو مٹھی بھر جنون رکھنے والے دکھائی دیں گے اور جنون ہی منزل تک پہنچاتا ہے جبکہ عقل و خرد کی وادیوں میں بھٹکنے والے کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ نریندر مودی جب وزیراعظم کے عہدہ کی دوڑ میں تھے تو انہوں نے 13 سال قبل چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے جوان ملک ہے۔ امریکہ ، چین اور دوسرے ممالک بوڑھے ہوچکے ہیں۔ مودی کا اشارہ ہندوستان کی آبادی میں 35 سال سے کم عمر افراد کی 65 فیصد موجودگی کی طرف تھا۔ طلبہ اور نوجوانوں نے مودی پر بھروسہ کیا کہ وہ سسٹم میں تبدیلی لائیں گے۔ نوجوانوں نے مودی کی باتوں پر بھروسہ کیا تھا، آج وہی نوجوان Gen-Alpha سے Gen-Z میں تبدیل ہوگئے ۔ 13 سال قبل جن کی عمر 17 سال تھی آج وہ 30 برس کے ہوگئے ۔ 25 سال کے 38 اور 29 سال کے 42 برس کے ہوگئے اور ناانصافیوں اور وعدہ خلافیوں کے خلاف دہکتا ہوا غصہ آخرکار آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔اب کوئی طاقت بھی جین زی کے اس سیلاب اور تبدیلی کی لہر کو روک نہیں پائے گی۔ مقدمات سے دستبرداری پر مودی حکومت نے جب یو ٹرن لیا تو کاکروچوں نے دہلی میں مارچ کی دھمکی دی۔ نوجوانوں کے مارچ کو روکنے کیلئے حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن پہلے سے سہمی ہوئی عدلیہ نے مداخلت سے انکار کردیا۔ پھر کیا تھا کہ حکومت نے آناً فاناً سپریم کورٹ سے کہا کہ حکومت مقدمات حتم کرنا چاہتی ہے لہذا سپریم کورٹ دستوری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مقدمات کالعدم کرنے کے احکامات جاری کرے۔
موہن بھاگوت بدل گئے یا آر ایس ایس نے اپنے نظریات تبدیل کردیئے ہیں۔ نیویارک میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی تقریر کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ سوچتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونا چاہئے، ایسی سوچ رکھنے والے ہندو نہیں ہوسکتے۔ بھاگوت نے امریکہ میں ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بارے میں کچھ ایسا بیان دیا جیسے کوئی حقیقی سیکولر قائد بیان دیتا ہو۔ پتہ نہیں ملک چھوڑتے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی قائدین کی زبان بدل کیوں جاتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا کوئی موقع نہیں گنواتے لیکن عرب اور مسلم ممالک پہنچتے ہی وہاں کے سربراہوں کو گلے لگاکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی وہ گلے لگانے تیار ہیں۔ کچھ اسی طرح موہن بھاگوت نے نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کا تعارف ایک ہندو مسلم اتحاد کے ملک کے طور پر کرایا۔ بھاگوت بیرون ملک جاکر لاکھ سیکولرازم کی باتیں کریں لیکن گزشتہ 12 برسوں میں 18 مرکزی وزراء نے مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ 27 سے زائد بی جے پی کے سرکردہ قائدین نے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑ دینا چاہئے ۔ کئی قائدین دن رات یہ کہنے سے نہیں تھکتے کہ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ موہن بھاگوت کے قول اور فعل میں تضاد واضح ہوچکا ہے اور کیا ہی بہتر ہوتا کہ موہن بھاگوت ہندوستان میں اپنے بیان پر عمل کر دکھاتے۔ ملک میں نفرت کی بولی اور باہر نکل کر محبت کا درس آخر بھاگوت کی کیا مجبوری ہے۔ اگر واقعی موہن بھاگوت اپنے بیان پر قائم ہیں تو انہیں آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر اور پنچ جنیہ میں اپنا بیان شائع کرنا چاہئے۔ نریندر مودی کو بیرونی ممالک میں اعزازات کا سلسلہ جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر کی سرزمین نے مودی کو سیویلین اعزاز سے نوازا۔ ازبکستان کی حکومت نے نریندر مودی کو ملک کا اعلیٰ ترین سیویلین اعزاز دیتے ہوئے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بابر نے ازبکستان کے پرگنا ویلی سے ہندوستان کا رخ کیا تھا۔ بابر کے نام پر ہندوستان میں مسلمانوںکو نشانہ بنایا جاتا ہے اور بابر کی تمام نشانیوں کو مٹانے کی بات کہی جاتی ہے لیکن نریندر مودی بابر کی سرزمین سے اعزاز حاصل کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ازبکستان کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کے قائدین کو کم از کم بابر اور ان کے نام پر مسلمانوں کو گالی دینا بند کرنا چاہئے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو صرف اعزاز سے مطلب ہے چاہے کوئی ملک دے۔ کسی ملک کو جانے سے قبل وزارت خارجہ کے عہدیدار دو شرائط پیش کرتے ہیں، ایک سیویلین اعزاز ، دوسرا صحافیوں کے سوالات سے بچاؤ۔ Gen-Z کی کامیابی پر راحت اندوری کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
جو دنیا کو دکھائی دے اسے کہتے ہیں خاموشی
جو آنکھوں میں دکھائی دے اسے طوفان کہتے ہیں