وزیر اعظم کو سابق چیف منسٹر کا مکتوب، تحقیقات کی اپیل
حیدرآباد۔/22 ستمبر، ( سیاست نیوز) تروملا تروپتی دیواستھانم کے لڈو کی تیاری میں جانوروں کی چربی کے استعمال کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد آج کئی ہندو تنظیموں کی جانب سے وجئے واڑہ میں سابق چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی قیامگاہ کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا۔ اچانک دھرنا اور جگن موہن ریڈی کے خلاف نعرہ بازی کے سبب صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے وائی ایس جگن موہن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ہندوؤں سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ جگن موہن ریڈی کی قیامگاہ کے روبرو بی جے پی یوا مورچہ اور دیگر تنظیموں کے کارکن جمع ہوگئے۔ وہ لڈو کی تیاری میں جانوروں کی چربی کے استعمال کیلئے سابق حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ ہندوؤں سے معذرت خواہی تک احتجاج جاری رہے گا۔ احتجاجی جگن کی قیامگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ جگن کے سیکوریٹی گارڈ اور پولیس نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ اچانک احتجاج کے بعد وائی ایس آر کانگریس پارٹی دفتر اور جگن کی قیامگاہ کے اطراف سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔ بعض مقامات پر جگن کے علامتی پتلے نذرآتش کئے گئے۔ اسی دوران وائی ایس جگن موہن ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس معاملہ کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ جانچ اور حقائق کو منظر عام پر لانے کی اپیل کی۔ جگن موہن ریڈی نے مکتوب میں کہا کہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم حکومت اس مسئلہ پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے امیج کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔1