وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہنوز باقی تاہم امریکہ یوکرین کی امداد کیلئے پُر عزم
واشنگٹن : امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں منگل کو ووٹ ڈالے جانے کے بعد ابھی حتمی نتائج آنا باقی ہیں اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ڈیمو کریٹک یا ریپبلکن پارٹی میں سے کون ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر پائے گا۔ تاہم ایک بات جس کا عزم دونوں پارٹیوں کے قانون ساز ظاہر کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یو کرین کی، جو نو ماہ سے روسی حملہ کا دفاع کر رہا ہے، مالی اور اسلحہ کی امداد جاری رکھی جائے گی۔ امریکی ریاست ورجینیا کے سینیٹر مارک وارنر سینیٹ میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیر مین ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوری میں جب نئی کانگریس اپنے فرائض سنبھالے گی تو اس سے قطع نظر کہ نئی ووٹنگ کے نتائج کیا رہے ہوں، ڈیمو کریٹس اور ری پبلکنز دونوں کیف حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے قریب دکھائی دیتے ہیں البتہ سینیٹ میں اکثریت کا معاملہ زیادہ غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ دو دیگر سینیٹر، ڈیلاوئیر کے ڈیمو کریٹک کرس کونز اور اوہائیو کے ری پبلکن راب پورٹ مین حال ہی میں یوکرین کے دورے سے واپس آئے ہیں جہاں انہوں نے حکومتی عہدیداروں کو دونوں پارٹیوں کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ جہاں تک اراکینِ کانگریس کا تعلق ہے، ری پبلکن رکنِ کانگریس ایڈم کنزنگر اور وکٹوریا اسپارٹز اور ڈیموکریٹک اراکینِ کانگریس اینڈی لیون اور ڈیوڈ پرائس نے الگ الگ انٹرویوز میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ یو کرین کی امداد جاری رہنے کی توقع کر رہے ہیں۔ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، ڈیمو کریٹک صدر جو بائیڈن نے کانگریس کے جائزے کے بغیر یوکرین کو اسلحہ اور انسانی ہمدردی کے طور پر، تقریباً 20 ارب ڈالر کی امداد روانہ کی ہے۔ لیکن اگر ری پبلکن ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو جیسا کہ ی پبلکن رکنِ کانگریس، کیون میکارتھی نے جو ایوان کے نئے اسپیکر ہو سکتے ہیں، سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی پارٹی کے قانون ساز یو کرین کے لیے امداد کی نئی درخواستوں کی محض معمول کے مطابق منظوری نہیں دیں گے۔ ان کی پارٹی کے قدامت پسند قانون سازوں میں سے بیشتریہ امداد روک دینے کے لیے کہتے رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس سے یوکرین پر مزید خرچ کرنے کی درخواستوں پرتند بحث چھیڑ جائے۔ کیف میں موجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کے لیے اس بات کی اہمیت نہیں کہ امریکی کانگریس پر کس پارٹی کا کنٹرول ہے۔ وہ صرف چاہتا ہے کہ امداد کا سلسلہ جاری رہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ماسکو میں عہدیداروں کو توقع نہیں کہ ریپبلکنز کے کانگریس کے کسی بھی چیمبر، ایوانِ نمائندگان یا سینٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں یو کرین کو امریکی امداد کی فراہمی میں کوئی کمی آئے گی۔