جینور فساد سے تباہ مسلمان دیڑھ سال سے حکومت کی امداد کے منتظر

   

ریونت ریڈی کے آج دورہ آصف آباد پر متاثرین کی امیدیں جاگ اٹھیں ، وعدہ وفا کی توقع

جینور : /31 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ساری ریاست اور ہر سیاسی جماعت و حکمراں جماعت اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ضلع آصف آباد کے جینور منڈل میں منظم طریقہ سے فرقہ پرستوں نے کافی تباہی مچائی تھی ۔ سو سے زائد دکانوں کو جلادیا تھا ۔ مسلمانوں کی املاک کو چن چن کر نقصان پہنچایا گیا بلکہ عبادت گاہ کو بھی نہیں بخشا ۔ ریاست کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین نے اس علاقہ کا دورہ بھی کیا ۔ کئی سماجی تنظیموں نے متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں وقتی طور پر مدد کی جبکہ حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے فساد کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنے کا اعلان کیا ۔ تاہم حکومت سے امداد کی آمد کا آج دیڑھ سال بعد بھی تباہ حال خاندانوں کو انتظار ہے بلکہ فساد میں دانہ دانہ کے لئے محتاج ہوگئے متاثرین ایک زخمی پرندہ کی طرح اب بھی تڑپ رہے ہیں کہ آخر حکومت کے اقدامات کیا ہوں گے کب متاثرین کے زخموں پر سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والی حکومت مرہم لگائے گی ۔ اب جبکہ کل یعنی یکم جون کو ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کیرا میری منڈل کے کوتھا گوڑ گرام پنچایت میں ترقیاتی کاموں کا افتتاح انجام دینے کے لئے آصف آباد ضلع کا دور ہ کررہے ہیں ۔ اس تناظر میں جنیور کے فسادات میں تباہ ہوئے متاثرین کو امید ہے کہ وہ اس دورہ کے موقع ان کی امدادا کریں گے ۔ اب دیکھنا ہے کہ چیف منسٹر جنیور فسادات میں جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی امداد کا اعلان کرتے ہیں یا پھر اقتدار میں آنے سے قبل جو انتخابی وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے آج اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کا سامنا کررہے ہیں اسی طرح جنیور کے فساد میں بے گھر ہوئے مسلمانوں بالخصوص تاجرین کو بھی نظر انداز نہ کردے ان کے دورہ سے جنیور کے مسلمانوں میں پھر ایکبار امید کی کرن جاگ اٹھی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو چاہئیے کہ اس علاقہ میں جو تباہی دیڑھ سال قبل فرقہ پرستوں نے منظم انداز میں مچائی ہے اس کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ متاثرین کے لئے آج کے دورہ میں معاوضہ کا اعلان کریں ۔ جنیور کی عوام ریونت ریڈی سے پرامید ہے اوران کے دورہ کی منتظر ہے ۔