کانگریس دور حکومت میں مذہبی مقامات کا انہدام، مسجد کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ
حیدرآباد 21 اپریل (پریس نوٹ) مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے جیڈی میٹلہ کے سورارم میں مسجد سید مولانا کے انہدام کی مذمت کی۔ سروے نمبر 49/6 سائی بابا نگر کے تحت تعمیر کردہ مسجد کو پولیس کی نگرانی میں صبح کی اولین ساعتوں میں منہدم کردیا گیا۔ یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ کارروائی ریونیو اور بلدی نظم و نسق میں کس نے کی ہے۔ مسجد کے علاوہ معاشی طور پر کمزور مسلم خاندانوں کے 10 تا 12 مکانات بھی منہدم کئے گئے۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیاکہ 15 سال قبل اراضی معاملہ کی یکسوئی کے باوجود کسی نوٹس کے بغیر انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ مسجد کے لئے اراضی محمد جہانگیر نامی شخص نے بطور عطیہ فراہم کی تھی۔ مقامی افراد نے مالیہ کی کمی کے باعث عارضی شیڈ تعمیر کیا اور 15 دن قبل باقاعدہ نمازوں کا آغاز کیا گیا۔ حکام نے انہدامی کارروائی کے دوران مسجد سے قرآن مجید، جائے نمازوں اور دیگر سامان کو نکالنے کی اجازت نہیں دی۔ امجد اللہ خان نے اِس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے جاننا چاہا کہ آیا انہدامی کارروائی چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علم میں لائی گئی اور اِس سلسلہ میں حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے۔ امجد اللہ خان نے کہاکہ ریونت ریڈی کے چیف منسٹر بننے کے بعد سے ریاست میں مساجد، درگاہوں اور چھلوں کے انہدام کا سلسلہ جاری ہے۔ اُنھوں نے مسجد سید مولانا کی دوبارہ اُسی مقام پر تعمیر اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ انہدام کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو مسلمانوں کو دستوری حقوق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔V/k/b