جی او 3 سے خواتین کو ملازمتوں میں ناانصافی : کویتا

   

حکومت فوری دستبردار ہوجائے، اندراماں راجیم میں خواتین کی حق تلفی

حیدرآباد ۔ 19 فبروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن میں تبدیلیوں کیلئے جاری کردہ جی او نمبر 3 کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس جی او سے خواتین 33.3 تحفظات سے محروم ہوجائیں گی۔ سونیا گاندھی اور کانگریس کے قومی صدر ملکا ارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے خواتین کے تحفظات کے معاملے میں کانگریس کے موقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کویتا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ایک طرف اندراماں راجیم کا نعرہ دے رہی ہے، دوسری طرف چیف منسٹر اے ریونت ریڈی جی او 3 جاری کرتے ہوئے خواتین کو ملازمتوں میں جو تحفظات فراہم کئے گئے، اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ روسٹر پوائنٹ میں فراہم کئے گئے تحفظات کو منسوخ کرنے کا جی او کے ذریعہ اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے بی سی، ایس سی، ایس ٹی خاتون امیدواروں کو نقصان پہنچارہی ہے۔ پسماندہ طبقات کی خواتین میں روزگار سے محروم ہوجانے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ روسٹر نظام منسوخ کرنے سے خاتون امیدواروں کی ملازمتوں پر مرد امیدواروں کو تقرر کرنے کے قوی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر ڈپارٹمنٹ میں 16 یا 20 ملازمین ہونے پر ہی خاتون امیدواروں کو ملازمتوں کے موقع دستیاب ہوگئے ہیں۔ تبدیل ہوئے قواعد کے مطابق ملٹی زون I میں خواتین گروپ I میں صرف تین ملازمتیں حاصل ہوں گی۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے نومبر 2022ء کو روسٹر نظام پر فیصلہ دیا تھا۔ تاہم اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے پرانے نظام کو برقرار رکھا تھا۔ کانگریس پارٹی نے 2 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس میں 66 ہزار ملازمتیں خواتین کو حاصل ہونا چاہئے۔ کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سیاست پر جتنی توجہ دے رہے ہیں اتنی توجہ روسٹر نظام پر دیتے تو خواتین کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے جی او نمبر 3 کو فوری منسوخ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہاکہ وہ اس مسئلہ پر یو پی اے کی صدرنشین سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرچکی ہیں۔ تلنگانہ میں خواتین کے ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی اندراماں راجیم میں خواتین سے ناانصافی کررہی ہے۔2