نئی دہلی : جی ایس ٹی کونسل میٹنگ کی سربراہی مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کرتی ہے اور اس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے شامل ہیں۔ انھوں نے ہفتہ کو اپنی 49 ویں میٹنگ میں کئی فیصلے کیے ۔ کونسل نے پنسل اور شارپنرز پر جی ایس ٹی کی شرح کو 18 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کرنے پر اتفاق کیا۔ وہیں مائع جات پر جی ایس ٹی کی شرح کو 18 فیصد سے گھٹا کر صفر یا 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی ایک ٹریکنگ ڈیوائسز پر ٹیکس کی شرح کو بھی کم کیا گیا ہے۔انھوں نے سالانہ ریٹرن پر لیٹ فیس کو بھی معقول بنایا ہے۔ 5 کروڑ تک کی سالانہ ریٹرن کے لیے لیٹ فیس 25 روپے یومیہ مقرر کی گئی ہے، جو اس کے ٹرن اوور کے زیادہ سے زیادہ 0.02 فیصد کے ساتھ مشروط ہے۔
5 کروڑ سے 20 کروڑ روپے تک کا کاروبار کرنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے لیٹ فیس 50 روپے یومیہ ہوگی۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے اپیلٹ ٹربیونلز کے قیام اور پان مسالہ اور گٹکے کے کاروبار میں ٹیکس چوری کو روکنے پر تبادلہ خیال کیا۔ اپیل ٹربیونلز پر سیتا رمن نے کہا کہ جی او ایم کی رپورٹ پر اتفاق کیا گیا ہے اور رپورٹ میں معمولی ترمیم کی ضرورت ہے۔ جی ایس ٹی کونسل کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے سیتا رمن نے کہا کہ ہم نے آج اعلان کیا ہے کہ جی ایس ٹی معاوضے کے زیر التوا بیلنس پر آج تک تمام واجبات کو کلیئر کر دیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں جی ایس ٹی معاوضے کا پورا زیر التواء بیلنس ہوگا، وہیں جون کے لیے 16,982 کروڑ روپے کی منظوری دے دی جائے گی۔