آج سے پرچہ نامزدگی کا ادخال، سیاسی جماعتوں میں سرگرمیاں تیز، 4 ڈسمبر کو نتائج کا اعلان
حیدرآباد: مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کیلئے تلنگانہ ریاستی الیکشن کمشنر مسٹر پارتھا سارتھی نے اعلامیہ جاری کردیا جس کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یکم ڈسمبر کو رائے دہی منعقد ہوگی اور 4 ڈسمبر کو رائے شماری ہوگی۔ مسٹر پارتھا سارتھی نے آج صبح پریس کانفرنس کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ 18 نومبر سے پرچۂ نامزدگی کے ادخال کا آغاز کیا جائے گا جو کہ 20 نومبر 3 بجے سہ پہر تک جاری رہے گا۔ 21 نومبر کو پرچۂ نامزدگیوں کی تنقیح عمل میں لائی جائے گی اور 22 نومبر پرچۂ نامزدگی سے دستبرداری کی آخری تاریخ ہوگی اور اسی دن 3 بجے سہ پہر امیدوارو ںکی قطعی فہرست جاری کردی جائے گی۔ مسٹر پارتھا سارتھی نے بتایا کہ یکم ڈسمبر کو صبح 7 بجے تا شام 6 بجے جی ایچ ایم سی حدود کے 150 بلدی حلقہ جات میں رائے دہی ہوگی اور 4 ڈسمبر کو رائے شماری کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کسی مقام پر دوبارہ رائے دہی کی صورت میں 3 ڈسمبر کو رائے دہی کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ مسٹر پارتھا سارتھی نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کا انعقاد بیالٹ پیپر پر عمل میں لایا جائے گا اور ان انتخابات میں 74 لاکھ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ 150 بلدی حلقوں میں رائے دہی کیلئے 48 ہزار سے زائد مراکز رائے دہی کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور تمام مراکز رائے دہی پر کورونا وائرس سے احتیاط کے تمام اصولوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے شہر حیدرآباد میں رائے دہی کے سلسلہ میں متعدد متعلقہ محکمہ جات بالخصوص محکمہ پولیس، بلدیہ اور محکمہ مال کے علاوہ دیگر محکمہ جات سے بات چیت کرنے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کے بعد اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مسٹر پارتھا سارتھی نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ایکٹ میں موجود دفعہ 7 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی دفعہ کے تحت ریاستی الیکشن کمیشن کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ موجودہ کونسل کی میعاد کے ختم ہونے سے تین ماہ قبل کی کسی بھی تاریخ میں انتخابات کا انعقاد عمل میں لاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں جملہ 2700 مراکز رائے دہی کی حساس مراکز کے طور پر شناخت کی گئی ہے جہاں خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ (الیکشن کی