جی ایچ ایم سی سے متعلق 12 ہزار مقدمات عدالتوں میں زیرالتواء

   

حیدرآباد 16 جنوری (سیاست نیوز) عدالتوں میں 12 ہزار سے زائد مقدمات زیرالتواء رہنے کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کو گزشتہ کئی برسوں سے تنازعات کا سامنا ہے۔ ایک آفیشل ڈیٹا کے مطابق ان مقدمات کی بڑی تعداد 8,424 ہائی کورٹ میں زیرالتواء ہے۔ ان میں 3,317 سٹی سیول کورٹس میں زیرالتواء ہیں۔ 317 کیسیس لوک آیوکت، 121 ایچ آر سی میں، 21 سپریم کورٹ میں اور دیگر 21 این جی ٹی میں زیرالتواء ہیں۔ اراضی تنازعات اور مفاد عامہ کی درخواستوں سے فیس تنازعات تک کے باعث کارپوریشن کو کسی کام کو کرانے کے لئے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے۔ حال میں جی ایچ ایم سی کمشنر ڈی ایس لوکیش کمار کی صدارت میں ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ دیکھا گیا کہ ان میں کئی مقدمات میں جواب (کاؤنٹر) داخل کرنے کا عمل زیرالتواء ہے۔ ذرائع نے کہاکہ کئی سال قبل عدالتوں سے جاری کئے گئے حکم التواء کے باعث کئی ترقیاتی کام رُک گئے ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ان میں بعض 25 سال اور اس سے زیادہ عرصہ سے بھی زیرالتواء ہیں۔ ان میں کئی سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق ہیں اور تخلیہ کروانے پر وہ اراضی پر ان کا دعویٰ پیش کریں گے۔ دوسرے بڑے تنازعات جن سے جی ایچ ایم سی کو سامنا ہے ان میں ٹریڈ لائسنس فیس تنازعات شامل ہیں اور ان کیسیس کے زیرالتواء ہونے کی وجہ خزانہ کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ جی ایچ ایم سی کمشنر نے ان کیسیس کا جائزہ لینے کے بعد 5 ہزار سے زائد کیسیس میں کاؤنٹرس داخل کرنے کو یقینی بنایا۔ ان میں زیادہ تر کیسیس ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ سے متعلق ہیں۔ اس کے بعد ہیلت اینڈ سنیٹیشن، انجینئرنگ، ایڈورٹائزمنٹ، ریونیو اور لینڈ اکویزیشن ونگس سے متعلق ہیں۔ تحقیر عدالت کے کسیسی بھی قابل لحاظ تعداد میں زیرالتواء ہیں اور جی ایچ ایم سی اس میں تاخیر کے لئے ذمہ دار ہے کیوں کہ اس نے کئی سال سے کاؤنٹرس داخل نہیں کئے ہیں۔ عہدیداروں نے کہاکہ وکلاء ہیں جو جی ایچ ایم سی کی جانب سے پیروی کرتے ہیں اور انہیں ماہانہ 15,000 روپئے ادا کئے جاتے ہیں اور ہائی کورٹ وکلاء کے لئے فی کیس 5000 روپئے ادا کئے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ہونے والے مقدمات کے معاملہ میں وکلاء ان کی اپنی فیس چارج کرتے ہیں۔ تاہم جی ایچ ایم سی اب مختلف حصول اراضی کیسیس اور دیگر جائیداد تنازعات میں حکتواء کو برخاست کروانے میں سنجیدہ ہے تاکہ دیرینہ زیرالتواء پراجکٹس کو مکمل کیا جائے۔