1148 کروڑ روپئے کے کام نامزدگی پر دینے کی مذمت ، حیڈرا کے نام پر لوٹ کا الزام
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ سابق ایم ایل سی کے کویتا نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے لیے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ذمہ دار قرار دیا ۔ آج تلنگانہ جاگرتی کی آفس پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کویتا نے الزام لگایا کہ سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹنڈرس من مانی طریقے سے اپنے قریبی افراد کو دئیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں جہاں 5 لاکھ روپئے کے کام ٹنڈرس کے ذریعہ دئیے جاتے ہیں ۔ وہیں جی ایچ ایم سی میں نامزدگی کے طریقہ کار کے ذریعہ 1148 کروڑ روپئے کے کام الاٹ کئے گئے جو تلنگانہ اسٹیٹ فینانشیل کوڈ کے خلاف ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو کانگریس پارٹی ماضی میں بی آر ایس حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات لگاتی رہی وہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی آر ایس سے بھی زیادہ بدعنوانیوں میں ملوث ہوگئی ہے ۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ نامزدگی کے طریقہ کار کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ کویتا نے حکومت پر حیڈرا کے نام پر رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کو ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ تاجروں سے فی مربع فٹ 150 روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ بدعنوانی کے تمام ثبوت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالے کرے گی ۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ حیدرآباد کی ترقی کے نام پر حاصل کئے گئے 35 ہزار کروڑ روپئے کہاں گئے ۔ کویتا نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود نہیں جانتے کہ کیا بول رہے ہیں اور خبردار کیا کہ ان کے خلاف بیانات دینے سے باز آجائے ۔ انہوں نے بتایا کہ نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کے لیے 21 کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں ۔۔ 2/m/b