شعبہ ٹرانسپورٹ میں800 ، سینی ٹیشن اور انٹامولوجی شعبہ میں 700 افراد کی نشاندہی
حیدرآباد ۔ 28 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست میں ایسے کئی سرکاری محکمہ جات ہیں جہاں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ اور آوٹ سورسنگ ملازمین کو وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ انہیں خدمات انجام دیتے ہوئے مہینوں اپنی تنخواہوں کا انتظار کرنا پڑرہا ہے مگر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) میں ایسے کئی ملازمین ہیں جو بغیر کام کئے تنخواہ حاصل کررہے ہیں یہ سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے۔ جی ایچ ایم سی میں کام کئے بغیر تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ سرفہرست ہے جس کے ملازمین گھر بیٹھے دوسرے کام کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی سے تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ ان بے قاعدگیوں کے باوجود متعلقہ شعبہ ٹرانسپورٹ کے انجینئرس، شعبہ صاف صفائی (صحت) کے میڈیکل آفیسرس، انجینئرس، شعبہ اینٹامولوجی کے سینئر ماہر امراضیات وغیرہ اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کررہے ہیں جو بغیر کام کرے تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ ان میں شعبہ ٹرانسپورٹ کے 800 افراد شامل ہیں۔ سینی ٹیشن اور انیٹومولوجی کے شعبہ میں مزید 700 افراد غیرقانونی طور پر تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔ کواڑی گوڑہ پارکنگ یارڈ میں 150 تک لائیٹ موٹرس، ہیوی موٹرس ہیں۔ بعض ملازمین مرمت کے نام پر کروڑہا روپئے کی لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں۔ گاڑیوں کے ٹائر اور ڈیزل کے کوپن فروخت کئے جارہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے ٹرانسپورٹ شعبہ میں ڈرائیورس اور دیگر مزدور اس طرح 2 ہزار افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد کے نام صرف ریکارڈ میں موجود ہے جس میں چند مزدور جی ایچ ایم سی کونسل کے قائدین اور دوسرے عوامی منتخب نمائندوں کے مکانات میں خدمات انجام دینے کی بات کررہے ہیں۔ چند قائدین کی میعاد ختم ہوجانے کے باوجود یہ ملازمین وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے ملازمین کیلئے جی ایچ ایم سی اے ٹی ایم کارڈ میں تبدیل ہوگیا ہے۔2