بلدیہ کے خزانہ کا بے دریغ استعمال، شہر سے ہونے والی آمدنی دیگر مقاصد کیلئے استعمال
حیدرآباد۔1۔جنوری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت تلنگانہ ہی نہیں بلکہ شہر حیدرآباد کی بلدیہ بھی مکمل طور پر کنگال ہوچکی ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے پاس اب اخبار خریدنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔ بلدی عہدیداروں کے مطابق جی ایچ ایم سی کے خزانہ کا بے دریغ استعمال اور شہر حیدرآباد سے ہونے والی آمدنی کو دیگر مقاصد کے لئے استعمال کئے جانے کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اگر فوری طور پر جی ایچ ایم سی کے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ملازمین کو تنخواہوں کی اجرائی کے لئے بھی بجٹ نہیں ہوگا۔ بتایاجاتا ہے کہ ملازمین و عہدیدار جنہیں جی ایچ ایم سی کے ذریعہ تنخواہ ایصال کی جاتی ہے وہ اب تک تاخیر سے تنخواہوں کی اجرائی پر خاموش تھے لیکن اب جبکہ خزانہ میں اخبار کے بلوں کی اجرائی کے لئے پیسہ نہیں ہے تو ایسی صورت میں جی ایچ ایم سی کے ذریعہ تنخواہ حاصل کرنے والے دیانتدار عہدیداروں اور ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور کہاجارہا ہے کہ وہ اب ان حقائق سے عہدیداروں کو واقف کروانے لگے ہیں جن کی وجہ سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو خسارہ اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد سے ہونے والی آمدنی کو اگر شہر حیدرآباد کے ترقیاتی کاموں کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے اور شہر حیدرآباد میں موجود دیگر محکمہ جات کی جائیدادوں کے ٹیکس بقایاجات کی فوری ادائیگی کے علاوہ روڈ ٹیکس میں بلدیہ کو حاصل ہونے والے حصہ کی حکومت کی جانب سے اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں جی ایچ ایم سی کو اس قدر معاشی بدحالی کا شکار ہونا نہیں پڑتا لیکن ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے شہر حیدرآباد سے ہونے والے آمدنی کو دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے علاوہ جی ایچ ایم سی کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹ کے علاوہ وصول طلب بقایاجات جاری نہ کئے جانے کے سبب حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں اور اب تو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے صدر دفتر کو پہنچنے والے اخبارات کے بل جاری کرنے کے لئے بھی مالیہ موجود نہیں ہے۔ بلدیہ کی اس صورتحال کے سلسلہ میں عہدیداروں اور ملازمین کا کہناہے کہ ریاستی حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ جب بھی جی ایچ ایم سی نے ریاستی حکومت سے گرانٹ کے متعلق دریافت کیا اور اجرائی کے لئے نمائندگی کی تو حکومت کی جانب سے قرض کے حصول میں مدد کی تیقن دیتے ہوئے بلدیہ کو نہ صرف کنگال کردیا گیا ہے بلکہ کروڑہا روپئے کے قر ض کے بوجھ تلے دبایاجاچکا ہے۔م