جی ایچ ایم سی کو پانچ ماہ میں 760 کروڑ روپئے کی آمدنی

   

گزشتہ سال کے مقابلے عمارتوں کی تعمیرات کیلئے دی جانے والی منظوریوں میں 90 فیصد کا اضافہ
حیدرآباد ۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے جی ایچ ایم سی کے حدود میں عمارتوں کی تعمیراتی منظوریوں کے ذریعہ بلدیہ کو ہونے والی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جی ایچ ایم سی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال اپریل سے اگست تک عمارتوں کی تعمیراتی اجازت اور (OC) کی اجرائی سے 399.61 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی۔ جاریہ سال اسی مدت اپریل سے اگست تک 4389 عمارتوں کی منظوری اور (OC)1008 جاری کئے گئے۔ اس میں اچانک 90 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پراپرٹی ٹیلکس اور بلڈنگ پرمٹ فیس جی ایچ ایم سی کی آمدنی کے اہم ذرائع ہیں۔ گزشتہ مالیاتی سال (اپریل 2024 سے مارچ 2025) تک پراپرٹی ٹیکس کی شکل میں 2000 کروڑ روپئے وصول ہوئے تھے۔ ٹاؤن پلاننگ شعبہ کو 1138.44 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی۔ گزشتہ سال اپریل سے اگست تک توقع کے مطابق درخواستیں وصول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے 399.61 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی۔ گزشتہ سال ستمبر سے جاریہ سال مارچ تک وصول ہونے والے 738.83 کروڑ روپئے کو شمار کرلینے پر جملہ آمدنی 1138.44 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ موجودہ مالیاتی سال کے پہلے پانچ مہینوں (اپریل 2025 سے مارچ 2026ء) تک 759.98 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس تناظر میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ترقی کی سمت گامزن ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ضرورت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کمپنیاں نئے پراجکٹس شروع کرنے میں اپنی دلچسپی دکھارہے ہیں۔ انڈی پینڈنٹ مکانات کے علاوہ پانچ منزلہ عمارتوں کی تعمیرات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ بلڈنگ پرمیٹ کی اجرائی کیلئے جدید ٹیکنالوجی دستیاب کرائی گئی ہے۔ جاریہ سال 20 مارچ سے بلڈناو پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ BuidNow یں پلان کا جائزہ منٹوں میں مکمل ہورہا ہے۔ سنگل ونڈو کے ذریعہ ریونیو، اریگیشن اور دیگر محکموں کو درخواستیں پہنچ رہی ہیں۔ زمین کی ملکیت کا حق، تالاب، ہنر اور ذخیرہ آبوں کے قریب اراضیات نہ ہونے پر این او سی جاری کیا جارہا ہے جس سے عمارتوں کی تعمیرات کیلئے جاری کی جانے والی منظوری کی رفتار میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔2