حال تم نے بھارت کا کیا سے کیا بنا ڈالا

   

Gen Z کی جیت … مودی حکومت ہار گئی
دھرمیندر پردھان مستعفی… راہول کی جدوجہد کامیاب

رشیدالدین
’’ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جائے گا‘‘ ساحر لدھیانوی کا یہ شعر شائد آج کے حالات کے لئے لکھا گیا تھا ۔ مودی حکومت کی من مانی ، ظلم اور تاناشاہی کے خاتمہ کے دن شائد قریب ہیں کیونکہ کاکروچ جاگ چکے ہیں۔ سنسد سے سڑک تک ہر طرف انقلاب زندہ باد نعرہ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ انصاف اور حق کیلئے دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوئی تحریک سارے ملک میں پھیل چکی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ظلم اور جبر دائمی نہیں ہوتا اور زوال اس کا مقدر ہوتا ہے۔ ملک میں نوجوان نسل کی بیداری سے امید کی جارہی ہے کہ ظلمتوں کی رات ڈھل جائے گی اور امیدوں کی سحر ابھرے گی۔ لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کے خلاف سوشیل میڈیا سے شروع ہوئی یہ تحریک سڑکوں پر آچکی ہے اور دہلی کا جنتر منتر انقلاب اور تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ 3 عام انتخابات میں مسلسل کامیابی نے مودی اور ان کے حواریوں کو مغرور بنادیا اور وہ خود کو ناقابل تسخیر تصور کرنے لگے۔ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء نے مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع کردی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جب سوشیل میڈیا سے نکل کر سڑک پر آئی تو بی جے پی کا کہنا تھا کہ ان بچوں سے کچھ نہیں ہوگا لیکن جس انداز میں یہ ایک طاقتور تحریک بن گئی ، ہر کسی کو محسوس ہوا جیسے ملک کے بے چین ، انصاف سے محروم اور سسٹم سے ناراض نوجوان Gen Z کو ایک پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جو کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں مل گیا۔ جہدکار سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرانے میں مودی حکومت کو کامیابی ضرور ملی لیکن جنتر منتر سے انہیں اٹھانے کی کوشش مودی حکومت کے گلے کا پھندہ بن گیا۔ مودی ۔ امیت شاہ نے طاقت کے ذریعہ تحریک کو ختم کرنے جنتر منتر پر بربریت کا خونی کھیل کھیلا جس میں کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زخمی ہوگئیں۔ جنتر منتر پر 20 جولائی کا دن جلیان والا باغ کا منظر پیش کر رہا تھا جب انگریزوں نے گھیر کر مجاہدین آزادی کو گولیوں سے بھون دیا تھا۔ جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارچ میں ہزاروں نوجوان شریک تھے جن کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی کی گئی۔ پولیس حصار توڑ کر نوجوان جب پارلیمنٹ کے قریب ہونے لگے تو ان کے ساتھ ملک دشمنوں ، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔ پولیس نے لاٹھیاں برسائیں، آنسو گیس کے شیل داغے اور پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں لڑکیوں کی توہین اور بدسلوکی کی گئی۔ ظالم پولیس والوں نہیں سوچا کہ اگر ان کی بیٹی اور بہن ہوتی تب بھی کیا یہی سلوک کرتے؟ پولیس کے ساتھ بڑی تعداد میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈے تھے جو نہتے احتجاجیوں کو نشانہ بنارہے تھے۔ جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں بھگدڑ اور افراتفری کا ماحول تھا ۔ ایک طرف بچاؤ بچاؤ کی کربناک آوازیں تو دوسری طرف ظالم پولیس کہہ رہی تھی کہ گھیر کر مارو۔ ظلم و بربریت کے اس مظاہرہ نے نوجوانوں کے حوصلے کو مزید بلند کردیا اور مودی حکومت کو احساس ہوچکا ہے کہ نظریاتی تحریکات کو طاقت کے ذریعہ کچلا نہیں جاسکتا۔ طلبہ کا ایجی ٹیشن جس انداز میں شدت اختیار کرچکا ہے ، دہلی بارود کے ڈھیر پر دکھائی دے رہا ہے۔ جنتر منتر نے یوں تو کئی احتجاج دیکھے لیکن نوجوانوں کی یہ تحریک ملک کا نظریہ بدلنے کے موقف میں ہے۔ ایک ایماندار دنیا جنتر منتر کے ذریعہ ایک بے ایمان اور کرپٹ سیاسی دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ حق کی لڑائی لڑنے والے واپس لوٹنے تیار نہیں بلکہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر لائے ہیں۔ بے ایمان اور کرپٹ سسٹم نے ملک میں سب کچھ تہس نہس کردیا ہے اور ملک کا نوجوان قوم کو کرپٹ سسٹم اور بدعنوان سیاستدانوں سے نجات دلانا چاہتا ہے۔ جنتر منتر پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے ہوئے نوجوانوں کے جذبہ کو سلام ، جنہوں نے ہر آزمائش میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ مودی جب جب ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے اور مودی جب جب ڈرتا ہے ہندو مسلم کرتا ہے، جیسے نعروں نے ایک طرف احتجاجیوں میں قربانی کا جذبہ اور پولیس کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کیا تو دوسری طرف مذہب کے نام پر نوجوانوں میں پھوٹ کی سازش کو ناکام کردیا۔ بات جب ہندو مسلم کی چلی تو ہم جنتر منتر کے اطراف موجود مساجد کا ذکر ضرور کریں گے جہاں پولیس کی لاٹھیوں اور آنسو گیس کا شکار نوجوانوں کی مدد کی گئی۔ مسجد کے انتطامیہ نے مساجد کے دروازے کھول دیئے جبکہ قریبی مندر کے دروازے بند کرلئے گئے تھے۔ مندر اور مسجد کا یہ ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوا۔ جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک کی صورتحال سے مودی حکومت خوفزدہ ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب مودی حکومت اور بی جے پی پر خوف طاری ہے۔
’’ہمارا وقت مت برباد کرو، ہم ویڈیو دیکھنا نہیں چاہتے اور ہمارے پاس اتنا وقت نہیں‘‘ یہ الفاظ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے ہیں جنہوں نے جنتر منتر پر نوجوانوں پر پولیس مظالم کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ جسٹس سوریہ کانت دراصل کاکروچ جنتا پارٹی کے حقیقی نظریہ ساز ہیں کیونکہ 15 مئی کو جب انہوں نے ملک کے نوجوانوں اور بیروزگاروں کو کاکروچ اور دیمک قرار دیا تھا، اس کے دوسرے ہی دن 16 مئی کو سوشیل میڈیا پر کاکروچ جنتا پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ جسٹس سوریا کانت نے نوجوانوں پر پولیس مظالم کے معاملہ میں اپنی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ملک میں Gen Z تحریک کے لئے جسٹس سوریہ کانت ذمہ دار ہیں اور حکومت کی پریشانی کی اہم وجہ چیف جسٹس ہیں۔ اگر انہوں نے نوجوانوں کو کاکروچ اور دیمک نہ کہا ہوتا تو نہ ہی پارٹی وجود میں آتی اور نہ جنتر منتر پر احتجاج ہوتا۔ اب جبکہ حالات قابو سے باہر ہیں جسٹس سوریہ کانت نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی ہے لیکن عدالت میں ان کے ریمارکس نے جنتر منتر کے نوجوانوں کے جذبات کو مزید بھڑکادیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جسٹس سوریہ کانت نے اپنے رویہ سے سارے ملک میں کاکروچ پھیلا دیئے اور وہ دیمک کی طرح نریندر مودی حکومت کی جڑوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت کے پاس بچوں پر مظالم کی سماعت کیلئے وقت نہیں تو دوسری طرف مودی حکومت پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار نہیں۔ بھلے ہی سوریہ کانت کے پاس ویڈیودیکھنے کے لئے وقت نہ ہو لیکن چیف جسٹس کے طور پر انہوں نے اخبارات کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا۔ اگر صرف گودی میڈیا چیانلس کو دیکھنے کی عادت ہے تب بھی جنتر منتر کی صورتحال سے واقف ضرور ہوجائیں گے۔ اگر لاٹھیاں کھانے والے اور پولیس کی بدسلوکی کا شکار لڑکیاں آپ کی بیٹی ، بہو ، پوتا ، پوتی ، ناتا نواسی ہوتے تو کیا جسٹس سوریہ کانت یہی کہتے کہ ہمارا وقت برباد نہ کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ حکومت کے سخت دباؤ میں ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے ملک کے انتہائی سنگین مسئلہ سے اپنی عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو مایوس کردیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ از خود اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے حکومت اور پولیس کو سخت ہدایات جاری کرتے۔ مودی اور امیت شاہ کی سرپرستی اس وقت تک رہے گی جب تک جسٹس سوریہ کانت کرسی پر ہوں گے۔ جس دن وہ ریٹائرڈ ہوجائیں ، ان کا شمار بھی گمنام لوگوں میں ہوجائے گا۔ طلبہ تحریک کو کمزور کرنے کیلئے طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں اور انہیں پاکستان ، چین اور امریکہ کی سازش سے جوڑتے ہوئے حوصلے پست کرناچاہتے ہیں۔ اب تو کھلے عام دھمکی دی جارہی ہے کہ جنتر منتر احتجاج میں حصہ لینے والوں کا پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا۔ ہر مسئلہ میں بیرونی سازش کا الزام اسی وقت عائد کیا جاتا ہے جب حکومت اندرون ملک صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ صفیان پرتاپ گڑھی نے کیا خوب کہا ہے ؎
حال تم نے بھارت کا کیا سے کیا بنا ڈالا
آئینہ سمجھتے تھے حادثہ بنا ڈالا