حجاب مذہبی طور پر لازم نہیں، کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ، پابندی برقرار

,

   

باحجاب طالبات کی گزارش عدالت نے
خارج کردی
طالبات فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع
مسلم طالبات نے امتحان بائیکاٹ کیا

بنگلورو : ریاست کرناٹک کی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ چونکہ حجاب لگانا مذہب اسلام کا لازمی جز نہیں ہے اس لیے اس پر پابندی درست ہے۔ مسلمانوں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ کرناٹک کی بعض مسلم طالبات ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوچکی ہیں۔ اسپیشل لیوو پٹیشن (مرافعہ) طالبات نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ انس تنویر کے ذریعہ داخل کی ہے۔ قبل ازیں ہائیکورٹ کی بنچ نے کالج کی مسلم طالبات کی ان متعدد درخواستوں کو خارج کردیا جس میں کلاس رومس میں یونیفارم کے ساتھ حجاب یا اسکارف پہننے کے حق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ریاست کے ضلع اڈوپی میں حجاب کا تنازعہ ڈسمبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اسکول نے گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کی بعض طالبات کو اسکارف پہننے کے سبب کلاس روم میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا۔ پہلے طالبات نے اس کے خلاف احتجاج کیا لیکن پھر جب انتظامیہ نے بھی ان کی حمایت کرنے کی بجائے اسکول کی حمایت کی تو اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔اپنا فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے کہاکہ ہمارا خیال ہے کہ اسلامی عقیدے میں مسلم خواتین پر حجاب پہننا کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔اس بنچ میں شامل ایک اور جج جسٹس کرشنا ایس دیکشت کا کہنا تھاکہ ہماری رائے یہ ہے کہ اسکول کی جانب سے یونیفارم متعین کرنا ایک معقول پابندی ہے جو آئینی طور پر جائز ہے اور اس پر طلبہ کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں 5 فروری کو جاری ہوئے اس سرکاری حکمنامے کو بھی برقرار رکھا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ جن کالجوں میں یونیفارم کا تعین کر دیا گیا ہے، وہاں حجاب پہننے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔عدالت نے کہاکہ ہماری رائے یہ ہے کہ حکومت نے 5 فروری 2022 ء کو جو ایک قانونی حکم نامہ جاری کیا تھا، انہیں ایسا کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے اور اس کو کالعدم قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ہے۔ عدالت نے کہاکہ اس نے تنازعہ کا جامع جائزہ لیا ہے اور بعض سوالات مرتب کئے ہیں جن کے جوابات ضروری ہیں۔ عدالتی بیان کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی عقیدے کے مطابق آئین کی دفعہ 25 کے تحت حجاب پہننا یا اسکارف لگانا ایک لازمی مذہبی عمل ہے کہ نہیں؟
کرناٹک ہائی کورٹ کے نام نہاد ’فیصلے ‘کے بعد ریاست کے ایک کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے مطابق حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، نیز اسکول یونیفارم پہننے لازمی ہے ، کے خلاف طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے۔ یہ واقعہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد منظر عام پر آیا۔خبر کے مطابق کرناٹک کے یادگیر کے سورا پورہ تعلقہ میں واقع کیمباوی گورنمنٹ کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے امتحان ہال سے باہر آگئیں۔ یہ لڑکیاں حجاب پہن کر کالج میں امتحان میں شریک ہوئی تھیں۔ امتحان منگل کی صبح 10 بجے شروع ہوا تھا۔خبر میں کہا گیا ہے کہ کالج کی پرنسپل شکنتلا نے ان طالبات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کو کہا، لیکن وہ نہیں مانیں اور امتحان گاہ سے باہر آگئیں۔پرنسپل کے مطابق تقریباً 35 طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے۔ مذکورہ طالبات نے کہا ہے کہ وہ اپنے والدین سے بات چیت کے بعد فیصلہ کریں گی کہ آیا وہ بغیر حجاب کے کلاس میں جائیں گی یا نہیں۔ایک طالبہ نے یہ بھی کہا کہ ہم حجاب پہن کر امتحان دیں گے اور اگر اسے ہٹانے کو کہا گیا توپھر ہم بصورت دیگر امتحان کا بائیکاٹ کریں گے۔کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے منگل کو حجاب کیس میں ایک اہم فیصلہ سنایا۔ بنچ کے مطابق حجاب پہننا اسلام کے لازمی اصولوں میں سے نہیں ہے ، یونیفارم کا استعمال لازمی ہے ، اور طالبات اس کی مخالفت نہیں کر سکتیں۔حجاب کا تنازع گزشتہ ماہ مزید گہرا ہوگیا۔اس کو لے کر کرناٹک کے کئی شہروں اور قصبوں میں کشیدگی بھی پھیل گئی تھی۔ بالآخر معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا اور اب یہ’ فیصلہ‘ آیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ حجاب اسلام کے لازمی اصولوں یا احکامات میں سے نہیں ہے۔ واضح ہو کہ حجاب یا پردہ اسلامی قانون کے مطابق جزولازم امر ہے ، حجاب کے بارے میں نص قطعی موجود ہے ، تاہم فیصلے کے بعد بھی یہ تنازعہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، کچھ تنظیموں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔

حجاب فیصلے پرمسلم قائدین کا اظہار مذمت

نئی دہلی: اسد الدین اویسی، محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے منگل کو کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی مذمت کی جس میں حجاب کو اسلام کا غیر ضروری جز قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں ممنوع کر دیا گیا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ فیصلہ بے حد مایوس کن ہے ۔ ہم ایک طرف خواتین کو بہ اختیار بنانے کی بات کر تے ہیں اور دوسری طرف ہم ان سے چننے (انتخاب کرنے ) کا حق چھین رہے ہیں۔ یہ محض مذہب کے بارے میں نہیں ہے ، بلکہ چننے کی آزادی سے متعلق ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اور لوک سبھا رکن اسد الدین اویسی نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ عرضی گذار ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کور ٹ سے رجوع کریں گے ۔ انہوں نے فیصلے کو بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اپنے فکر و نظر کے کئی وجوہات بتلائیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے نے ’مذہب، ثقافت اور اظہار خیال کی آزادی کے بنیادی حقوق‘ کو ختم کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا،‘ایک مذہبی مسلمان کا حجاب’ ایک طرح کی عبادت ہے ۔ لازمی مذہبی معاملہ امتحان کو کسوٹی پر رکھنے کا وقت آ گیا ہے ۔ ایک مذہبی شخص کے لیے سب کچھ ضروری ہے اور لا مذہبیت (دہریت) کے لیے کچھ لازم نہیں ہے ۔ ایک مذہبی ہندو برہمن کے لیے ‘جینیو’ لازمی ہے مگر ایک غیر برہمن کے لیے لازم نہیں ہے ۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ جج لازمییت کا تعین کر سکتے ہیں۔سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج کے فیصلے کو مسلمانوں کے اُمور میں ایک اور مداخلت قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ دیگر مذاہب کے لوگ اپنی اپنی مذہبی علامتوں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں داخل ہوسکتے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ کیوں؟ اُنھوں نے کہاکہ ہندو لڑکیاں اور خواتین بندیا لگاکر آسکتی ہیں، سکھ طلباء پگڑی کے ساتھ آسکتے ہیں تو مسلم طالبات کا ہیڈ اسکارف یا حجاب لگاکر آنا کیوں بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے۔