شادی بیاہ کی تقریبات کو یوں تو دنیا بھر میں اہمیت حاصل ہے خاص طور پر دلہا دلہن کے ملبوسات ان مواقع پر بھرپور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔اس سے قبل صرف عرب دلہنیں ہی صرف عروسی ملبوسات کے ساتھ حجاب اوڑھے دکھائی دیتی تھیں لیکن آج کل برصغیر دلہنیں بھی حجاب اوڑھے دکھائی دیتی ہیں۔دراصل شادی کے ملبوسات میں حجاب کا فیشن بہت پسند کیا جا رہا ہے اور حجاب شادی کے لباس کے ساتھ خوبصورت بھی لگتا ہے۔خواتین کے حلقے میں عربی حجاب بہت مشہور ہیں۔جو دلہنیں حجاب پہنتی ہیں وہ پریشان نہ ہوں۔وہ فیشن اسٹائل کی کمی محسوس نہیں کریں گی۔شادی کے ملبوسات میں زیادہ تر دبئی ، قطر ، سعودی عرب،شام اور سوڈان کی خواتین حجاب پہننا پسند کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ شادی کے ہجوم میں سب سے منفرد نظر آتی ہیں۔ ایک شادی کی تقریب میں جب دلہن اپنے عروسی جوڑے کے ساتھ حجاب اوڑھے نظر آئی تو ہر کوئی سراہے بغیر نہ رہ سکا،بڑی بوڑھیوں نے دلہن کا ماتھا چوم لیا کیونکہ بہت سی بڑی بوڑھیاں اس بات سے پہلے پریشان تھیں کہ آج کے دور کی دلہن کی آنکھوں میں تو حیا ہی نہ رہا کہ وہ یوں منہ کھولے دلہا اور بھائیوں کے درمیان آ بیٹھتی ہیں کہ ہمیں شرمندگی ہونے لگ جاتی ہے۔ اب تو شکر ہے کہ دلہنیں حجاب اوڑھ کر آیا کریں گی۔ابھی بھی کئی گھرانوں میں لڑکیاں دلہن کے حجاب اوڑھنے کو قدیم فیشن تصور کرتی ہیں اور ناک چڑھا کر کہتی ہیں،وہ دلہن ہی کیا جو حجاب اوڑھ کر سامنے آئے۔بہرحال اپنی اپنی پسند کے مصداق کوئی اس فیشن سے خوش تو کوئی ناخوش ہے۔