ایر پورٹ پر عازمین کو دشواریوں کا اندیشہ ،حج ٹرمنل سے دستبرداری ناقابل فہم، رباط کی اجازت کیلئے مرکز سے رجوع ہوں
حیدرآباد۔/22 مئی، ( سیاست نیوز) حج 2022 کے عازمین کو حیدرآباد ایر پورٹ اور سعودی عرب میں دو اہم سہولتوں سے محرومی کے نتیجہ میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو اس جانب فوری توجہ مبذول کرتے ہوئے ایر پورٹ پر خصوصی حج ٹرمنل سے روانگی اور واپسی کو یقینی بنانے کے علاوہ مرکز کی مداخلت کے ذریعہ سعودی عرب میں حیدرآبادی رباط میں قیام کی اجازت حاصل کرنی چاہیئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو برسوں میں حج کے عدم انعقاد کے بعد عازمین حج بڑی امیدوں کے ساتھ حج کمیٹی سے روانہ ہورہے ہیں لیکن انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جی ایم آر کمپنی نے حیدرآباد انٹر نیشنل ایرپورٹ پر خصوصی حج ٹرمنل کی سہولت کو ختم کرتے ہوئے مین ٹرمنل سے روانگی اور واپسی کے انتظام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ پر تلنگانہ حکومت اور حج کمیٹی کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا حالانکہ یہ سہولت عازمین کیلئے کئی برسوں تک فراہم کی گئی۔ خصوصی حج ٹرمنل تیار کیا گیا تھا تاکہ عازمین حج اس ٹرمنل سے استفادہ کریں۔ اس مرتبہ کسی جائز وجہ کے بغیر ہی جی ایم آر نے حج ٹرمنل کی سہولت کو ختم کردیا ہے اور دیگر مسافرین کی طرح حج کمیٹی کے عازمین مین ٹرمنل سے روانہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ حج ٹرمنل میں عازمین کیلئے نماز گاہ اور ٹائیلٹس کا بھی خصوصی انتظام کیا جاتا ہے کیونکہ پرواز سے چند گھنٹے قبل عازمین ٹرمنل میں منتقل کئے جاتے ہیں۔ بیشتر عازمین ضعیف العمر ہوتے ہیں اور پہلی مرتبہ سفر کرتے ہیں لہذا وہ ایمگریشن اور دیگر فارمس کو پُر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ حج کمیٹی کے والینٹرس ان کی مدد کرتے ہیں۔ضعیف عازمین کیلئے لگیج کی منتقلی بڑا مسئلہ ہوتا ہے جس میں والینٹرس مدد کرتے ہیں لیکن مین ٹرمنل پر لگیج کی منتقلی ضعیف العمر عازمین کو ہی کرنی پڑے گی۔ عازمین کو حج کمیٹی کی جانب سے چائے اور اسناکس سربراہ کئے جاتے ہیں تاکہ انہیں سفر کے دوران کوئی دشواری نہ ہو۔ جی ایم آر عازمین سے ایر پورٹ ٹیکس وصول کرتا ہے لیکن حج ٹرمنل کی خدمات سے انکار ناقابل فہم ہے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور حج کمیٹی کے ذمہ داروں نے کل ایر پورٹ کا دورہ کیا لیکن جی ایم آر حکام کو حج ٹرمنل سے خدمات بحال کرنے پر توجہ نہیں دلائی۔ وزیر داخلہ اور دیگر عہدیدار گزشتہ کئی برسوں سے عازمین کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور وہ حج ٹرمنل کی سہولتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ان سہولتوں کو ختم کرنے سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی وہ واقف ہیں لہذا انہیں فوری حرکت میں آنا ہوگا۔ اگر اس مرتبہ حج ٹرمنل کی سہولت سے عازمین محروم ہوتے ہیں تو پھر آئندہ بھی عازمین کو مین ٹرمنل پر یہ سہولتیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔ مین ٹرمنل پر زائد پابندیاں ہوتی ہیں اور حج والینٹرس اور کمیٹی کے عہدیدار وہاں کوئی مداخلت نہیں کرسکتے۔ ان حالات میں مین ٹرمنل پر ضعیف العمر عازمین مرد و خواتین کو بے یارومددگار چھوڑنا کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہوگا۔ دوسری طرف حکومت سعودی عرب سے مرکز کے ذریعہ نمائندگی کی جائے تاکہ جاریہ سال عازمین کو رباط میں قیام کی سہولت کی اجازت دی جائے۔ حکومت سعودی عرب کی جانب سے پرمٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں ناظر رباط نے جاریہ سال عازمین کیلئے رباط کی سہولت فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور اور وزارت خارجہ کے ذریعہ اس سلسلہ میں مساعی کی جاسکتی ہے۔ رباط میں قیام کے سبب فی عازم کو تقریباً 50 ہزار روپئے تک کی بچت ہوتی ہے اور 2019 میں آخری مرتبہ 1286 عازمین کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایک کور کے تحت اگر 4 افراد ہوں تو مجموعی طور پر 2 لاکھ روپئے کی بچت ایک خاندان کو ہوسکتی ہے۔ اس غیر معمولی سہولت کی بحالی کیلئے تلنگانہ حکومت اور نظام اوقاف کمیٹی کو متحرک ہونا پڑے گا۔ر