تلنگانہ حج کمیٹی کی تیاریاں، رباط کیلئے عنقریب اجلاس۔ صدر نشین حج کمیٹی محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔/10 جنوری، ( سیاست نیوز) حج 2023 کیلئے سعودی حکومت نے ہندوستان کیلئے ایک لاکھ 75 ہزار عازمین کا کوٹہ الاٹ کیا ہے اور گذشتہ دو برسوں میں کورونا وباء کے سبب حج کوٹہ میں جو کمی کی گئی تھی اس کی پابجائی کردی گئی ہے۔ ہندوستان کیلئے پہلی مرتبہ اس قدر کوٹہ الاٹ کیا گیا جس کے نتیجہ میں جاریہ سال تمام ریاستوں کے مقامی کوٹہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ مرکزی حکومت حج پالیسی 2023 کا عنقریب اعلان کرے گی۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور سمرتی ایرانی نے ٹوئٹر پر لکھا گذشتہ دو ماہ کے دوران وزارت اقلیتی امور نے حج پالیسی 2023 کو قطعیت دینے کیلئے تمام فریقوں سے سرگرم مشاورت کی ہے۔ حج پالیسی کا آئندہ چند دنوں میں اعلان کیا جائے گا اور حج کمیٹی آف انڈیا کے پورٹل کو آن لائن درخواستوں کے ادخال کیلئے کھولا جائے گا۔ سمرتی ایرانی نے ایک لاکھ 75 ہزار حج کوٹہ کے الاٹمنٹ پر حکومت سعودی عرب سے اظہار تشکر کیا ہے۔ اسی دوران حج کمیٹی آف انڈیا نے حج 2023 کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال کے شیڈول کی تیاری کرلی ہے۔ وزارت اقلیتی اُمور سے منظوری کے بعد درخواستوں کے ادخال کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے تیسرے ہفتہ میں وزارت اقلیتی امور کی جانب سے حج کمیٹی آف انڈیا اور خانگی ٹور آپریٹرس کے حج کوٹہ کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ اسی دوران صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی جناب محمد سلیم نے جاریہ سال ریکارڈ حج کوٹہ کی منظوری پر حکومت سعودی عرب سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت حج 2023 کے انتظامات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کی طرح تلنگانہ حج کمیٹی عازمین حج کی بہتر خدمت کے ذریعہ ملک میں پہلا مقام حاصل کرے گی۔ گذشتہ سال حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کو ملک میں عازمین حج کی خدمت کے اعتبار سے نمبر ون مقام حاصل ہوا تھا۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے مرکزی وزیر اقلیتی امور سمرتی ایرانی کے ہاتھوں جناب محمد سلیم کو ایوارڈ سے نوازا تھا۔ جناب محمد سلیم نے کہا کہ حج پالیسی کے اعلان کے بعد آن لائن درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوگا اور حج کمیٹی کی جانب سے عازمین کی رہنمائی کیلئے خصوصی کاونٹرس قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ریاست حیدرآباد کے عازمین حج کیلئے مکہ مکرمہ میں رباط کی سہولت کے سلسلہ میں مساعی جاری ہے۔ نظام اوقاف کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ عنقریب اجلاس طلب کیا جائے گا۔ر