اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنیکا حکم

,

   

رام پور، 15 جولائی: (ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی، جس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ریاستی وزیر محمد اعظم خان نے رکھی تھی، اُس کی 38 عمارتوں کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے آج اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت یہ حکم جاری کیا۔ اتھارٹی کے مطابق جامع تحقیقات، سماعت اور دستیاب ریکارڈ کے جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی بیشتر عمارتیں منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ رام پور کے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے بتایا کہ علاقائی جونیئر انجینئر کی رپورٹ میں یونیورسٹی کیمپس میں قواعد کے خلاف تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے بعد معاملے کی جانچ شروع کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ متعدد عمارتیں مطلوبہ منظوری حاصل کیے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، چنانچہ اس نے 8 جولائی کو تحریری اعتراضات داخل کیے۔ بعد ازاں 15 جولائی کو ذاتی سماعت منعقد ہوئی، جس میں یونیورسٹی کے نمائندوں اور وکلاء نے اپنا موقف پیش کیا۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق تحریری جواب اور سماعت کے دوران پیش کیے گئے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی 40 عمارتوں میں سے صرف دو عمارتوں کے پاس باقاعدہ منظوری موجود ہے، جبکہ باقی 38 عمارتیں ضروری اجازت اور دستاویزات کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو 15 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ خود ان غیر مجاز تعمیرات کو ہٹا دے، بصورت دیگر انتظامیہ قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہدام کا عمل انجام دے گی۔ سماعت کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ جس وقت یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں، اس وقت سنگن کھیڑا گاؤں رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں تھا، لہٰذا آر ڈی اے سے منظوری لینا ضروری نہیں تھا۔