حزب اللہ کی اسرائیل سے انتقام لینے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں

   

بیروت: گذشتہ ماہ کے آخر میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل اور حزب اللہ کے سینئر کمانڈر فؤاد شکر کی بیروت کے نواح میں ہلاکت کے حوالے سے ایرانی انتقامی کارروائی کا وقت اور تاریخ واضح نہیں ہے۔ امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے مطابق انتقامی کارروائی چند دنوں سے لے کر چند ہفتوں کے اندر ہو سکتی ہے۔ ادھر ایسا لگ رہا ہے کہ حزب اللہ نے اپنا انتقام مؤخر کر دیا ہے۔حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اس التوا کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حزب اللہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے حوالے سے قطر میں بات چیت کے عرصے میں انتقامی حملہ نہیں کرے گی”۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ ایران نواز حزب اللہ یہ نہیں چاہتی ہے کہ وہ جمعرات کے روز شروع ہونے والے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمے دار ٹھہرائی جائے۔ ان مذاکرات سے ممکنہ طور پر طے پانے والے سمجھوتے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی ہو گی اور دونوں (اسرائیلی اور فلسطینی) اطراف سے قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتقام کو مؤخر کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ یہ فوری یا کسی مقررہ وقت پر طے نہیں ہے۔اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو ایرانی دارالحکومت تہران میں قتل ہو گئے تھے۔ اس سے چند گھنٹے پہلے بیروت کے جنوبی نواح میں ’ضاحیہ‘ کے وسط میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر فؤاد شکر کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان دو کارروائیوں نے حماس اور حزب اللہ پر کاری ضرب لگائی تھی اور ان کے بعد اسرائیل کے خلاف انتقام کی دھمکیوں میں اضافہ ہو گیا۔