حقوق العباد اور انفاق فی سبیل اللہ ، فیض عام ٹرسٹ کی ترجیح

   


چالیس برسوں میں لاکھوں ضرورت مندوں کی مدد ، جناب افتخار حسین کو زبردست خراج تحسین
فیض عام ٹرسٹ کی 40 ویں سالگرہ کا انعقاد ، اہم شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد 26 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : جو کام خلوص نیت سے کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو نہ صرف کامیاب بناتے ہیں بلکہ اس کے انجام دینے والوں کے دنیا و آخرت میں درجات بلند کرتے ہیں ۔ خاص طور پر یتیموں یسیروں ، بیواؤں ، معذورین ، کمزوروں ، غریبوں ، بیماروں ، ضرورت مندوں ، آفات سماوی اور فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کی ہر لحاظ سے جو مدد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے عمر و اقبال میں اضافہ کرکے اپنے بندوں پر عزت و احترام اور وقار کی بارشیں برساتا ہے ۔ اللہ کے ایسے ہی بندوں میں جناب ذوالفقار حسین مرحوم شامل تھے جنہوں نے دکھی انسانیت تڑپتے انسانوں کیلئے 1982-83 میں تاریخی شہر اورنگ آباد میں فیض عام ٹرسٹ کے نام سے ایک پودا لگایا تھا جو آج ایک ایسے تناور اور گھنے درخت میں تبدیل ہوگیا جس کے فیض سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ضروت مند فیض یاب ہورہے ہیں ۔ فیض عام ٹرسٹ کے کاروان کو آگے بڑھانے میں سکریٹری جناب افتخار حسین کا اہم کردار ہے ۔ فیض عام ٹرسٹ پچھلے 40 برسوں سے ضرورت مند طلباء وطالبات کے ساتھ ان کے والدین و سرپرستوں کی مدد کررہا ہے ۔ چنانچہ سالار جنگ میوزیم کے ویسٹرن بلاک آڈیٹوریم میں فیض عام ٹرسٹ کی 40 ویں سالگرہ شایان شان منائی گئی ۔ تقریب میں حیدرآباد اور اورنگ آباد کی ہمدرد و خدا ترس اہم شخصیتوں کی ایک کہکشاں موجود تھی ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور شرکاء نے ایستادہ ہو کر تالیوں کی گونج میں خدمات کی ستائش کی ۔ محترمہ فرخ پروین جمال چیرپرسن نے کاغذی پورہ ہاسپٹل اورنگ آباد ( ذوالفقار حسین میموریل ہاسپٹل ) خدمات کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے جب اس ہاسپٹل کے لیے جناب افتخار حسین کی خدمات و عطیات کے بارے میں بتایا تب شرکاء محفل حیران رہ گئے کہ ایک شخصیت بلالحاظ مذہب و ملت رنگ ونسل ذات پات کس طرح خدمات انجام دے رہی ہے اور فیض عام ٹرسٹ کے فیض سے ضرورتمندوں کو استفادہ کروارہی ہے ۔ تقریب میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں ، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، جناب خلیل احمد ( خلیل واچ کمپنی ) ، محترمہ فرحت یاسمین ( ٹرسٹی ) ، عبدالحسین جنرل سکریٹری فیض عام ٹرسٹ ، جناب کفیل احمد ( ٹرسٹی ) ، جناب علی حیدر عامر ، جناب سید حیدر علی ، جناب کرار احمد طاہر ، پروفیسر انور خاں ، آقا مجاہد حسین ، ڈاکٹر سمیع اللہ خاں ، نواب محمد عالم خاں ( تمام ارکان مجلس عاملہ ) ، جناب رضوان حیدر ( ٹرسٹی ) ، جناب تقی الدین شجیع ، حفیظ الدین شیخ امام ، سراج احمد طاہر ( ٹرسٹی ) ، جناب سلمان طیبی ، محمد طیبی ( شبیر میڈیکل ہال ) ، جناب عرفان موتی والا ، ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر ہیپلنگ ہینڈ فاونڈیشن ، جناب مظہر حسین (COVA) ، پدم شری محمد علی بیگ ، پروفیسر مجید بیدار ، قاضی زین العابدین ( رکن مجلس عاملہ ) ، ڈاکٹر لئیق صمدانی ایجوکیشنل سوسائٹی ، جناب ذاکر حسین ایڈوکیٹ ، ماہر تعلیم فیروز حسین کانچ والا ، جناب علی عابدی ، نواب عباس علی خاں ، نواب مصطفی علی خاں ، جناب تجمل حسین ، محمد محی الدین سابق صدر روٹری کلب ، کلیم اختر ، شمیم اختر ( دکن پن اسٹور ) ، جناب مظہر الدین جاوید ، سلویٰ فاطمہ پائلٹ جیسی شخصیتیں موجود تھیں ۔ ابتداء میں ڈاکٹر مخدوم محی الدین ( ٹرسٹی ) نے خوبصورت انداز میں فیض عام ٹرسٹ کی 40 سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی اور انتہائی دلنشیں انداز میں اذہان و قلوب میں اترنے والے الفاظ و جملوں کا استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ فیض عام ٹرسٹ نے حقوق العباد ، انفاق فی سبیل اللہ کو اپنی خدمات میں اولین ترجیح دی جس کے ناقابل یقین نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ جناب رضوان حیدر نے ، کرار احمد طاہر کے تیار کردہ فیض عام ٹرسٹ کی خدمات اور اسکے دائرے سے متعلق پریزنٹیشن کو پیش کیا اور بتایا کہ تعلیم ، میڈیکل و ریلیف کے شعبوں میں فیض عام ٹرسٹ کی سرگرمیوں کو وسعت دی گئی ۔ فیض عام ٹرسٹ کے ذریعہ 3000 سے زائد لڑکیوں کو نرسیس بنایا گیا ۔ پیرا میڈیکل کورسیس 500 سے زائد لڑکے لڑکیوں کو کروائے گئے ۔ تعلیمی میدان میں فیض عام سے فیض پانے والے طلبہ وطالبات کی تعداد دس ہزار سے زائد رہی ۔ 50 سے زائد طلبہ نے پوسٹ گریجویشن کیا اور 180 سے زائد کو گریجویشن کروایا گیا ۔ ان میں 60 سے زائد ڈاکٹرس اور وکیل بنے ، میڈیکل فنڈ سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد رہی ۔ ریلیف کے معاملہ میں 8000 سے زائد استفادہ کنندگان نے استفادہ کیا ۔ 4 اسکلس ڈیولپمنٹ سنٹرس کے ذریعہ 500 مرد و خواتین کو تربیت فراہم کی گئی ۔ جبکہ سیاست ملت فنڈ اور ہیلپنگ ہینڈ کے اشتراک سے عابد علی خاں آئی ہاسپٹل دارالشفاء میں کپڑا بینک قائم کیا گیا جس کے ذریعہ تاحال مردانہ زنانی اور بچکانی ملبوسات کے 5.5 لاکھ جوڑوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے متاثر کن انداز میں کچھ ایسے خاندانوں ( استفادہ کنندگان ) کے بارے میں بتایا جو غربت اور حالات سے مایوس تھے ۔ ان خاندانوں کی بیٹیوں اور بیٹوں نے غیر معمولی تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پیشہ وارانہ کورس بالخصوص ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ میں فری سیٹیں حاصل کی ۔ بی فارمیسی کی طالبہ عائشہ خاتون نے فیض عام ٹرسٹ کا ترانہ پڑھ کر شرکاء کو خوشگوار حسرت سے دوچار کیا ۔ جناب افتخار حسین نے بطور خاص فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا شکریہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر محمد سمیع اللہ نے مستقبل کے پراجکٹس کے بارے میں بتایا ۔ انہوں نے سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین کی خدمات ، خدا ترسی کی ستائش کی اور کہا کہ فیض عام ٹرسٹ ہیروں کی تلاش کر کے انہیں تراش خراش کر ملت کے حوالے کردیا ہے ۔ اس موقع پر فیض عام ٹرسٹ کی خدمات پر تیار کی گئی ایک دستاویزی فلم کا حصہ بھی دکھا گیا ہے جس میں فیض عام ٹرسٹ حیدرآباد کے پہلے صدر و بانی سیاست جناب عابد علی خاں مرحوم ، سابق گورنر آندھرا پردیش کرشنا کانت ، خورشید عالم خاں ، سی کے جعفر شریف وغیرہ کو فیض عام ٹرسٹ کی ستائش کرتے دکھایا گیا ۔ ڈاکومنٹری میں شہزادی درشہوار ، ان کے فرزند شہزادہ مفخم جاہ کو بھی فیض عام کی تقریب میں حصہ لیتے اور فیض عام کی ستائش کرتے دکھایا گیا ۔ جناب رضوان حیدر نے کارروائی چلائی اور آخر میں شکریہ بھی ادا کیا ۔