حق رائے دہی کیلئے رائے دہندوں کی آبائی مقامات روانگی

   

سفر انتہائی مہنگا ثابت، سیاسی پارٹیوں اور قائدین سے سفری خرچ کے منتظر

حیدرآباد۔28 اپریل(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد سے اپنے اپنے شہروں کو ووٹ ڈالنے جانے والوں کے لئے سفر انتہائی مہنگا ہونے لگا ہے کیونکہ تعطیلات کے سبب ٹرینوں میں مسافرین کی تعداد زیادہ ہے اور شہر سے جن ریاستوں کے لئے بسیں روانہ ہوتی ہیں ان میں بھی مسافرین کی تعداد توقع سے زیادہ سفر کر رہی ہے ۔ آئندہ مرحلہ میں جو کہ 7مئی کو رائے دہی ہونے والی ہے ان میں پڑوسی ریاست کرناٹک کے 14 پارلیمانی حلقوں کے علاوہ 11 مہاراشٹرا کے پارلیمانی حلقوں اور اترپردش کے 10پارلیمانی حلقوں میں رائے دہی ہونے جا رہے ہیں اور شہر حیدرآباد میں کرناٹک کے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو ووٹ کے استعمال کے لئے اپنے آبائی مقام کو جانے کی خواہش مند ہے لیکن انہیں بس یا ٹرین میں ٹکٹ دستیاب نہیں ہے اور خانگی بسوں کے کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ کیا جاچکا ہے اسی طرح کی حالت مہاراشٹرا کے شہریوں کی بھی ہے جو اپنے علاقوں کوحق رائے دہی کے استعمال کے لئے جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں بھی سہولت میسر نہیں ہوپارہی ہے۔ 7 مئی کو ہونے والے مرحلہ کے بعد 13 مئی کو تلنگانہ اور آندھراپردیش دونوں ہی ریاستوں میں رائے دہی ہونے والی ہے اور آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے مزدور طبقہ کی امیدیں سیاسی جماعتوں اور قائدین سے ہی ہیں کیونکہ انہیں بھی کوئی ٹرین یا بس کے ٹکٹ نہیں مل پارہے ہیں کہ وہ رائے دہی سے قبل اپنے آبائی مقام پر پہنچ کر ووٹ کا استعمال کریں اور دوسرے دن واپس ہوسکیں ‘ خانگی بسیں جو آندھراپردیش کے مختلف شہروں کے لئے چلائی جاتی ہیں ان کے کرایوں میں بھی زبردست اضافہ ریکار ڈ کیا جانے لگا ہے۔3