حلقوں کی ازسرنو حد بندی پر آئندہ اجلاس حیدرآباد میں ہوگا: مہیش کمار گوڑ

   

پہلے دن اجلاس ، دوسرے دن جلسہ عام ہوگا، جنوبی ہند کی جماعتوں کی شرکت ،چینائی کے اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ حلقوں کی ازسرنو حد بندی (Delimitation) سے متعلق جنوبی ہند کا دوسرا اجلاس حیدرآباد میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج چینائی میں حکمران پارٹی ڈی ایم کے کے زیراہتمام انعقاد کردہ کُل جماعتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ مرکزی حکومت ، جنوبی ہند کی ریاستوں سے سوتیلا سلوک کررہی ہے جس کے خلاف ہم آئندہ ماہ حیدرآباد میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد کریں گے۔ انہوں نے چینائی کے اجلاس میں شریک کرنے والی تمام جماعتوں سے حیدرآباد کے اجلاس میں بھی شرکت کرنے کی اپیل کی۔ اس اجلاس کی تملناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اِسٹالن نے صدارت کی۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی، کیرلا کے چیف منسٹر پنارائی وجیئن، پنجاب کے چیف منسٹر بھگونت مان، کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار، اڈیشہ کے سابق چیف منسٹر نوین پٹنائک، بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کے علاوہ دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تمام پارٹیوں نے حیدرآباد کے اجلاس میں شرکت کرنے سے اتفاق کیا ہے، جس کی تاریخ کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن پارٹیوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوگا اور دوسرے دن بڑا جلسہ عام ہوگا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ نئی تشکیل شدہ ریاست ہے، اس کے باوجود تیزی سے ترقی کررہی ہے، مگر مرکزی حکومت تلنگانہ کی ترقی میں کوئی تعاون نہیں دے رہی ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کو معاشی بحران میں ڈھکیل دیا ہے۔ کانگریس حکومت، خصوصی منصوبہ بندی کے ذریعہ تلنگانہ کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقوں کی ازسرنو حد بندی سے جنوبی ہند کو نقصان ہوگا جس کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ تلنگانہ کو کسی بھی قسم کا نقصان ہوتا ہے تو یہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آبادی کے تناسب سے حلقوں کی ازسرنو حد بندی کی جاتی ہے تو جنوبی ہند کو بہت بڑا نقصان ہوگا، آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے جنوبی ہند کی ریاستوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ جس کو انعام ملنا چاہئے، اس کو حلقے کم کرتے ہوئے سزا دی جارہی ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستیں متحدہ طور پر اس کے خلاف جدوجہد کرتی ہیں تو یقیناً کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حلقوں کی ازسرنو حد بندی کو فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے یا پھر حصہ داری کے لحاظ سے نشستوں کو تقسیم کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے۔ 2