حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کی مثالی ترقی کیلئے بی آر ایس کی کامیابی ضروری : پدماراؤ گوڑ

   

کانگریس نے 6 حلقوں میں کمزور امیدواروں کو اُتارا۔ سب سے زیادہ اکثریت اسمبلی حلقہ خیریت آباد سے حاصل ہوگی

حیدرآباد 28 اپریل (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے بی آر ایس امیدوار پدما راؤ گوڑ نے کہاکہ حکمراں جماعت کانگریس نے فرقہ پرست بی جے پی کو کامیاب بنانے کے لئے سکندرآباد کے بشمول جملہ 6 لوک سبھا حلقوں میں کمزور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارا ہے۔ عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ بالخصوص اقلیتیں اپنے ووٹوں کو تقسیم ہونے نہ دیں۔ پدما راؤ گوڑ نے آج میڈیا کے ذریعہ عوام کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس پارٹی 6 ضمانتوں پر عمل نہ کرتے ہوئے عوامی ناراضگی مول لی ہے۔ کانگریس کی قومی جماعت اور راہول گاندھی بی جے پی کے خلاف لڑائی لڑرہے ہیں تاہم چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کانگریس کی قومی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے اپنی خود کی پالیسی پر من مانی طریقہ سے عمل کررہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے اقلیتوں کے ووٹ تقسیم کرانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ لیکن گریٹر حیدرآباد میں عوام بالخصوص اقلیتوں نے کانگریس کے الزامات کو قبول نہیں کیا اور بی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بجائے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست کے 6 لوک سبھا حلقوں سکندرآباد، ملکاجگیری، چیوڑلہ، کریم نگر، محبوب نگر اور نظام آباد میں کانگریس پارٹی کے کمزور امیدواروں کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ پدما راؤ گوڑ نے کہاکہ کانگریس پارٹی ریاست میں 14 تا 15 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کررہی ہے مگر ان 6 حلقوں میں کانگریس پارٹی سست انداز میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے صرف ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے بی آر ایس کو شکست دینے اور بی جے پی کو کامیاب بنانے کا ماحول تیار کررہی ہے۔ پدما راؤ گوڑ نے کہاکہ بی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے ڈی ناگیندر کانگریس میں شامل ضرور ہوئے ہیں مگر بی آر ایس کیڈر کانگریس میں نہیں گیا ہے۔ اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں بی آر ایس کے ساتھ کھڑا ہے جو بی آر ایس کی بہت بڑی طاقت ہے اور انھیں یقین ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے اور ان کی کامیابی میں حلقہ اسمبلی خیریت آباد کا اہم رول رہے گا۔ پدما راؤ گوڑ نے کہاکہ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے حدود میں شامل 7 کے منجملہ 6 اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی درج کی تھی۔ عوام نے کانگریس اور بی جے پی کو مسترد کردیا تھا۔ 5 ارکان اسمبلی میری انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور بی آر ایس کیڈر میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ عوام نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار جی کشن ریڈی کو کامیاب بنایا تھا۔ انھیں مرکزی وزارت میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ باوجود اس کے وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کی ترقی میں کوئی تعاون نہیں کیا اور نہ ہی جی کشن ریڈی نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کو ترقی دینے کے لئے کوئی اقدامات کئے۔ کانگریس وعدوں کو نبھانے میں اور جی کشن ریڈی حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کو ترقی دینے میں ناکام ہوگئے ہیں لہذا دونوں جماعتوں کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے۔ عوام متحد ہوکر ٹی آر ایس کو ووٹ دیتے ہوئے انھیں بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ کامیابی کے بعد وہ ہمیشہ دستیاب رہیں گے اور حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کو ملک کے مثالی حلقہ میں تبدیل کریں گے۔ 2