تل ابیب: ہرزی ہلیوی نے حماس عسکریت پسندوں کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت سیکیوریٹی کی بڑی ناکامی کی ذمہ داری قبول کر لی۔ہلیوی نے کہا کہ وہ اس حملے کے بارے میں اسرائیل کی دفاعی افواج کی انکوائری مکمل کریں گے ۔ حماس کے حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ جنگجوؤں نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔فلسطینی علاقہ غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 47,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے آرمی چیف ہرزی ہلیوی نے حماس عسکریت پسندوں کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت سیکیوریٹی کی بڑی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ 6 مارچ کو مستعفی ہو جائیں گے۔اسرائیل کے وزیر دفاع کو لکھے ایک خط میں ہلیوی نے کہا کہ وہ حملے کے بارے میں اسرائیل کی دفاعی افواج کی انکوائری مکمل کریں گے جو 15 ماہ کی لڑائی کا باعث بنا۔ انکوائری مستقبل میں سیکیورٹی چیلنجز کیلئے کی تیاری کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہو گی۔
ہلیوی نے، جو اسرائیل کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ ہیں، لکھاکہ میں آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) کی کمان اعلیٰ معیار اور مکمل طریقے سے اپنے جانشین کو منتقل کروں گا۔سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کسی کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے سے متعلق سوالوں کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی انکوائری جنگ کے خاتمے کا انتظار کر سکتی ہے۔فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 47,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔