حماس شرپسندوں کا ٹولہ : ٹرمپ

   

واشنگٹن : 19جنوری کو غزہ پٹی میں نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدہ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔حماس کے بیان کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے حماس پر ایک بار پھر تنقید کے تیر برسائے ہیں۔ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ”غزہ معاہدہ کے دوسرے مرحلے کا فیصلہ اسرائیل کریگا۔ ہم نے اس حوالے سے فیصلہ اپنے اتحادی پر چھوڑ دیا ہے‘۔انہوں نے حماس کو ”شریر لوگوں کا ٹولہ” بھی قرار دیا۔ انہوں نے جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ کی پہلی میٹنگ کے دوران کہاکہ حماس سمجھتی ہے کہ وہ لاشیں بھیج کر ہم پر احسان کر رہی ہے-انہوں نے کہا کہ ”حماس برے لوگوں کا ایک گروپ ہے”۔حماس نے 4 اسرائیلیوں کی لاشیں جو 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حملے کے دوران قبضے میں لی گئی تھیں مصر، قطر اور امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کے پہلے مرحلے کے حصے کے طور پر تل ابیب کے حوالے کی ہیں‘۔تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے والا ہے۔جب کہ فریقین دوسرے مرحلے پر مذاکرات کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد کرنے والے انتہائی اسرائیلی دائیں بازو کے لیڈروں نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کی مخالفت کی ہے۔