مطالبات قبول کرنا یا نہ کرنا حکومت کا مسئلہ۔مذاکرات کرنے میں کوئی قباحت نہیں
نئی دہلی 18 جولائی ( ایجنسیز ) سماجی کارکن انا ہزارے نے آج مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماہر تعلیم سونم وانگ چوک سے مذاکرات کرے اور کہا کہ ان کے مطالبات پر بات چیت ہونی چاہئے ۔ انا ہزارے نے سونم وانگ چوک کو زبردستی جنتر منتر سے اٹھا کر صفدرجنگ ہاسپٹل منتقل کرنے کے بعد یہ بیان دیا ہے ۔ انا ہزارے نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سونم وانگ چوک کے صبر کا امتحان نہ لے ۔ ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں یا نہیں تاہم بات چیت کرنے میں کیا حرج ہے ۔ سونم وانگ چوک نیٹ پرچہ افشاء معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے گذشتہ 21 دن سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے ۔ آج صبح انہیں دہلی پولیس نے زبردستی جنتر منتر سے صفدر جنگ ہاسپٹل منتقل کردیا ہے اور وہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ خود انا ہزارے نے 2011 میں لوک پال قانون کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی میں اسی طرح کی بھوک ہڑتال کی تھی ۔ انا ہزارے کا کہنا تھا کہ سونم وانگ چوک کافی دن سے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا حکومت کا مسئلہ ہے تاہم بات چیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ حکومت کو ان سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ ان کے صبر کا امتحان نہیں لیا جانا چاہئے ۔