حکومت نے آبپاشی پراجکٹس پر وائیٹ پیپر جاری کیا

   

وزیرآبپاشی اتم کمار نے بی آر ایس حکومت کی غلط پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا

حیدرآباد ۔ 17 فبروری (سیاست نیوز) حکومت نے اسمبلی میں آبپاشی پراجکٹس پر وائیٹ پیپر جاری کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کرنے کا بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیرآبپاشی این اتم کمار ریڈی نے وائیٹ پیپر جاری کرتے ہوئے پانی کی حصہ داری، پراجکٹس کی تعمیرات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل تک ریاست میں آبپاشی کا رقبہ 57 لاکھ ایکر تھا۔ سال 2014-23ء تک حکومت نے 1.81 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کیا۔ فی ایک اراضی کے اخراجات 11 لاکھ روپئے ہوئے ہیں ماضی کے مقابلے میں فی ایکر لاگت میں 12 گنا اضافہ ہوا ہے۔ زیرالتواء پراجکٹس کی تعمیرات کو مکمل کرنے کیلئے مزید 1.75 لاکھ کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے باوجود پانی کا استعمال جاری رہا بلکہ گزشتہ 10 سال میں پانی کا استعمال مزید بڑھ گیا ہے۔ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں انجینئرس اور ماہرین کو نظرانداز کردیا اور اپنی انجینئرنگ سے پراجکٹس کو ازسرنو ڈیزائن کرنے کے نام پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ انہوں نے دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ کا جائز حصہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بی آر ایس حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آندھراپردیش کو 512 ٹی ایم سی اور تلنگانہ کو 229 ٹی ایم سی حصہ ملا۔ کے سی آر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے حیدرآباد، رنگاریڈی، نلگنڈہ، محبوب نگر اور کھمم کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورحکومت میں تمڈی ہٹی کے پاس پرانہیتا، چیوڑلہ پراجکٹ کی تعمیر کیلئے 38,500 کروڑ روپئے کی لاگت سے 16.4 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کی تجویز تیارکی تھی۔ بی آر ایس حکومت اس پراجکٹ کی لاگت کو بڑھا کر 81 ہزار کروڑ روپئے تک پہنچا دیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ دریائے کرشنا اور گوداوری کے بیاریجس کا رخ موڑ دینے کی وجہ سے ریاست میں آبپاشی کا شعبہ پوری طرح بکھر گیا اور تلنگانہ کے سرکاری خزانہ پر 1.8 لاکھ کروڑ روپئے کے اخراجات کا بوجھ بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے منصوبوں کیلئے حاصل کردہ قرض اور سود کی وجہ سے سرکاری خزانہ بوجھ تلے دب گیا۔2