10 کروڑ روپے کا بجٹ منظور، ضلعی اسکریننگ کمیٹیاں مستحق طلبہ کا انتخاب کریں گی
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے جسمانی طور پر معذور طلبہ کی اعلیٰ تعلیم میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے ایک بہترین اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے سرکاری جونیر کالجس میں زیر تعلیم 1000 معذور طلبہ کو بغیر کسی پریشانی کے کالج پہنچنے اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مفت تین پہیوں والی اسکوٹیز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عام طور پر دسویں جماعت کے بعد مناسب اور آسان سواری نہ ہونے اور بسوں میں سوار ہونے و اترنے کی مشقت کے باعث بہت سے معذور طلبہ پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے موجودہ تعلیمی سال 2026-27 میں ان طلبہ کی مدد کے لئے خصوصی اسکیم شروع کی ہے۔ یہ جدید اسکوٹیز پٹرول اور برقی (ای وی) دونوں پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ہر سرکاری کالج میں اوسطاً ایک یا دو معذور طلبہ زیر تعلیم ہیں اور اس اسکیم کے بعد انٹرمیڈیٹ میں معذور طلبہ کے داخلوں اور حاضری میں زبردست اضافہ متوقع ہے۔ کمشنر انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن ابھیلاشا ابھینو کے مطابق یہ پروگرام محکمہ انٹر ایجوکیشن اور محکمہ بہبود معذورین کے باہمی تعاون سے چلایا جارہا ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کے لئے 10 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ آئندہ ماہ سے مستحق طلبہ سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ موصول ہونے والی درخواستوں کی شفاف جانچ اور اہل امیدواروں کے انتخاب کے لئے ضلعی سطح پر ایک مخصوص اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اگر موصولہ درخواستیں 1000 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہوتی ہیں تو شدید نوعیت کی معذوری کا شکار طلبہ کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال 2025-26 میں جیڈی میٹلہ کے گورنمنٹ جونیر کالج میں خصوصی ضروریات والے بچوں (CWO) کے لئے ایک خصوصی انٹرمیڈیٹ سیکشن کا بھی کامیابی سے آغاز کیا گیا تھا۔ 2؍F