لکھنؤ: آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن(اے آئی پی ای ایف)نے کوئلہ کی درآمدات کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اے آئی پی ای ایف کے چیئرمین شیلیندر دوبے نے منگل کو کہا کہ جانچ کے ضمن میں یہ شامل ہونا چاہئے کہ کوئلہ درآمدات کے مین مستفدین کون ہیں۔ درآمدات اور ہندوستانی کوئلہ کے سائنسی مرکب کے بغیر درآمدشدہ کوئلہ کو جلانے پر پابندی لگائی جانی چاہئے ۔ تاکہ بائلر اور بجلی جنریٹ کرنے والے آلات کو نقصان نا ہو۔ اگر کوئلہ درآمد کرنے کے لئے ریاست کے بجلی گھروں کو مجبور کردیا جاتا ہے تو مرکزی حکومت کو درآمد کوئلہ کی اضافی اخراج کو برداشت کرنا چاہئے تاکہ اس کا بوجھ ڈسکام اور عام صارف پر نہ پڑے ۔ اے آئی پی ای ایف نے کہا کہ موجود کوئلہ بحران کی ذمہ داری پوری طرح سے مرکزی حکومت کی ہے ۔ کول انڈیا کا انتظامیہ مرکزی حکومت کے پاس ہے ۔ حکومت نے کول انڈیا کو اس کے نقدی بھنڈار سے محروم کردیا ہے اور چیئر مین و مینیجنگ ڈائرکٹر کی تقرری نا کر نے سمیت مختلف انتظامی نکات میں منظم طور سے مداخلت کی ہے ۔ حکومت پرائیویٹ گھرانوں کی دیکھ ریکھ کی اپنی ذمہ داری بھی بھی ناکام رہی ہے یہ یقینی کیا جاسکے کہ وہ اپنے فرائض کو پورا کریں۔
مرکزی حکومت بھارتیہ ریلوے کا مالک ہے اور اسے چلاتی ہے ۔ حکومت بندرگاہوں کو کنٹرول کرتی ہے ۔ چونکہ پالیسی کے سبھی اختیار ات حکومت کے پاس ہیں اس لئے کوئلہ کے درآمدات کی واحد ذمہ داری اسی کی ہے ۔