حکومت کی باوقار اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 45 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت

   

7 رعیتو بھروسہ کیلئے 8200 ، آتمیہ بھروسہ کیلئے 600 کروڑ، گرام پنچایتوں کے بلز کی ادائیگی کیلئے 800 کروڑ روپئے
7 اندراماں ہاؤزنگ کیلئے 20 ہزار کروڑ، محکمہ فینانس کے عہدیدار مالیاتی مینجمنٹ میں مصروف، فوری طور پر 10 ہزار کروڑ کی ضرورت

حیدرآباد ۔15۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی باوقار اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 45 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے جس میں فوری طور پر 10 ہزار کرو ڑ روپئے کا انتظام ضروری ہوگیا ہے ۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کیلئے 8,200 آتمیہ بھروسہ اسکیم کیلئے 600 کروڑ ، گرام پنچایتوں کو 10 لاکھ روپئے تک بلز کی ادائیگی کیلئے مزید 800 کرو ڑ روپئے کی ضرورت ہوگی ۔ اس کے علاوہ نئے راشن کارڈس اور باریک چاول کی تقسیم سے مزید مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کیلئے 20 ہزار کروڑ روپئے درکار ہونے کا سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے ۔ آئندہ تین ماہ میں ہر ماہ 10 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کا محکمہ فینانس ان فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر کتنے فنڈس کی ضرورت ہے ۔ کس ماہ میں کتنی رقم درکار ہے ۔ آئندہ مالیاتی سال کیلئے کتنی رقم تجویز کی جائے۔ فی الحال عمل ہونے والی فلاحی اسکیمات ، تنخواہوں اور پنشن کے علاوہ نئی اسکیمات کیلئے فنڈس کیسے اکٹھا کیا جائے ؟ ریزرو بینک کے تحت اوپن مارکٹ سے کتنا حاصل کرنا ممکن ہے ، اس کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہا ہے ۔ رعیتو بھروسہ ، اندراماں ، آتمیہ بھروسہ اسکیمات کے علاوہ دوسرے اسکیمات کیلئے فنڈس جمع کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان اسکیمات پر عمل آوری کیلئے ریاست کے ماہانہ آمدنی کے علاوہ قرضوں کے بوجھ کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ فی الحال ریاستی حکومت کی ماہانہ آمدنی 11 ہزار کرو ڑ روپئے ہے ۔ محکمہ فینانس کی جانب سے آئندہ تین ماہ کے دوران ہر ماہ 2 ہزار کروڑ روپئے کی زیادہ آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ عام مارکٹ سے 30 ہزار کروڑ روپئے ریزرو بینک کے ذریعہ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس طرح جنوری ، فروری اور مارچ میں ہر ماہ 10 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کیلئے آر بی آئی کو انڈنٹ پیش کیا گیا ہے۔ جمع ہونے والے جملہ فنڈس سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن ، سوشیل پنشن ، دیگر فلاحی اسکیمات ، ریونیو اخراجات کے علاوہ قرض کی قسطوں کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ محکمہ فینانس نے ان تمام اخراجات کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے نئی اسکیمات کی فنڈنگ پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بڑے بلز کی ادائیگی گزشتہ دو ماہ قبل ہی روک دی گئی ہے ۔ محکمہ فینانس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ تین ماہ تک اسی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا ۔ فی الحال فنڈس کی قلت کے بغیر تمام ایڈجسمنٹ کئے جائیں گے ۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مستقبل میں آگے بڑھنے کا روڈ میاپ تیار کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کانگریس حکومت 26 جنوری سے رعیتو بھروسہ اور اندراماں آتمیہ بھروسہ اسکیمات شروع کرنے کی جارہی ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق ریاست میں تقریباً 70 لاکھ کسانوں کو رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 6000 روپئے فی ایکڑ کی شرح سے رقم ادا کرنا پڑے گا ۔ ساتھ ہی اندراماں آتمیہ بھروسہ اسکیم کے تحت بے زمین غریب کسانوں کو6000 روپئے کی پہلی قسط فراہم کرنے کیلئے مزید 600 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق اس اسکیم سے تقریباً 10 لاکھ زرعی مزدور مستفید ہوں گے ۔ ان دونوں اسکیمات کیلئے 31 جنوری تک فنڈس تقسیم کئے جائیں گے ۔ اس تناظر میں 8800 کروڑ روپئے فراہم کرنے محکمہ فینانس کے عہدیدار گزشتہ دو ماہ سے تیاریاں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت مقامی اداروں کے انتخابات سے قبل گرام پنچا یتوں میں کام کرنے والے سابق سرپنچس کو 10 لاکھ روپئے تک کے بل ادا کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ رقم 800 کروڑ روپئے تک ہوگی ۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے لئے 20 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی ۔ پہلے مرحلہ میں ارا ضی رکھنے والے غریبوں کے لئے 5 لاکھ روپئے کی امداد دی جارہی ہے ۔ 26 جنوری سے مزید 10 لاکھ نئے راشن کاری جاری کرنے کے امکانات ہیں۔ پہلے سے 90 لاکھ راشن کارڈس موجود ہیں۔ ان اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 45 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔2