حکومت کی لاپرواہی سے فصلیں سوکھ رہی ہیں

   

برقی سربراہی کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ، کاماریڈی میں گمپا گوردھن کی پریس کانفرنس
کاماریڈی 15 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق رکن اسمبلی کاماریڈی گمپا گووردھن نے ریاستی حکومت پر زرعی شعبہ کو مناسب برقی سربراہی فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی حکومت کی لاپرواہی کے نتیجے میں کسانوں کی فصلیں سوکھ رہی ہیں اور انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کاماریڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اپنی حکومت کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں بی آر ایس حکومت نے زرعی شعبہ اور صنعتوں کو بلا تعطل برقی سربراہی فراہم کرنے کے اقدامات کیے تھے اور ریاست کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے پانی اور برقی کی دستیابی کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے برقی کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 7 ہزار میگاواٹ سے بڑھا کر 20 ہزار میگاواٹ تک پہنچایا اور بھدراچلم و یادادری میں تھرمل پاور اسٹیشن قائم کیے۔ گمپا گووردھن کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں دیہی علاقوں میں کسانوں کو روزانہ چھ سے سات گھنٹے سے زیادہ برقی دستیاب نہیں ہورہی ہے، جس کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور کسان برقی سب اسٹیشنوں کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد میں بھی کسانوں نے اپنے مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے انوکھے انداز میں احتجاج کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تقریباً 40 لاکھ میٹرک ٹن کوئلے کے مبینہ طور پر ریکارڈ کے بغیر باہر منتقل ہونے کے معاملے کی جامع تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ سابق رکن اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوکھ جانے والی فصلوں کے لیے کسانوں کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے، برقی سربراہی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور کاشت کی گئی فصلوں کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ اقتدار میں رہنے کے باوجود کسانوں کو درپیش مسائل حل کرنے اور انہیں راحت پہنچانے میں حکومت کیوں ناکام ہورہی ہے۔اس موقع پر رکان بلدیہ مرزا حفیظ بیگ کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔