پاش علاقوں میں فلیٹ کی قیمت کم از کم ایک کروڑ ۔ کرایوں میں بھی پچاس فیصد تک اضافہ
حیدرآباد 10 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) حیدرآباد کے وسطی علاقوں میں اگر آپ فلیٹ خریدنا چاہتے ہیں تو اپنی جیب پر اضافی بوجھ عائد کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ اس کے علاوہ تنخواہ یافت طبقہ کیلئے یہ محض ایک خواب ہی ہوگا ۔ شہر کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تاہم فلیٹ کی قیمت نسبتا کم بلکہ وسطی حیدرآباد کے علاقہ سے نصف ہوسکتی ہے ۔ ماہرین نے بتایا کہ شہر کے پاش سمجھے جانے والے علاقوں جوبلی ہلز ‘ بنجارہ ہلز ‘ بیگم پیٹ ‘ پنجہ گٹہ ‘ سوماجی گوڑہ اور پرکاش نگر کے علاقوں میں بلکہ یرم منزل کے کچھ علاقوں میں ایک فلیٹ کی قیمت کم از کم ایک کروڑ روپئے تک ہوسکتی ہے ۔ ان علاقوں میں فی مربع فیٹ 13000 روپئے تک قیمت پہونچ گئی ہے ۔ اس طرح اگر ڈبل بیڈروم کا فلیٹ خریدا جائے تو اس کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے تک بھی ہوسکتی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 میں کورونا وباء کے دوران صرف حیدرآباد رئیل اسٹیٹ کیلئے ایک مستحکم مارکٹ تھا ۔ اب حیدرآباد رئیل اسٹیٹ شعبہ میں ملک میں سب سے سستی مارکٹ نہیں رہ گیا ہے۔ حیدرآباد نہ صرف صارفین کیلئے بلکہ سرمایہ کاروں کیلئے بھی ایک پسندیدہ مقام بن چکا ہے ۔ حیدرآباد کے مرکزی علاقوں میں جہاں ایک فلیٹ خریدنا مشکل ہوگیا ہے وہیںفلیٹ کرایہ پر دینا بھی آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ بیگم پیٹ ‘ پنجہ گٹہ اور پرکاش نگر میںجہاںکورونا سے قبل کرایہ 15 تا 20 ہزار روپئے ہوا کرتا تھا گذشتہ چھ مہینے میں کرایوں میں بھی 30 تا 50 فیصد اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک تنخواہ یافت ملازم کیلئے اپنی دسترس والی رہائش واجبی قیمتوں پر حاصل کرنا ہے تو پھرا سے شمالی اور جنوبی حصوں کا ہی رخ کرنا پڑیگا۔