حیدرآباد علم و ادب کا گہواراہ۔ اہل علم و فن کی قدردانی قابل رشک و قابل تقلید

   

جشن ریختہ کے مہمان شعراء و ادیبوں کی جناب صوفی سلطان شطاری کی جانب سے تہنیت
حیدرآباد ۔ 15 ۔ نومبر : ( راست ) ۔ فرخندہ بنیاد حیدرآباد اب بھی اپنی صدیوں قدیم روایات پر عمل کرتے ہوئے علم و ادب کے میدان میں اپنے گہرے نقوش چھوڑتا جا رہا ہے۔ یہاں منعقد ہونے والی ادبی محفلیں ، مشاعرے ، سمینار و سمپوزیم کی مثالیں ملک کے کسی دوسرے علاقوں میں شاذو نادر ہی ملتی ہیں۔ یہ شہر امتداد زمانہ کے باوجود اب بھی علم و ادب کا گہوارا ہے اور یہاں اہل علم و ادب کی جو قدردانی ہوتی ہے وہ نہ صرف قابل رشک ہے بلکہ قابل تقلید ہے۔ ان خیالات کا اظہار جشن ریختہ میں آئے مہمان شعراء اور ادیبوں نے شاعر صوفی سلطان شطاری کی جانب سے منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا کی ادبی شخصیات نے حیدرآباد کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا ماحول ہر طرف فروغ پاتا جائے تو آنے والے دور میں اردو کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس موقع پر ادبی محفل اور مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر ماجد داغی ( گلبرگہ ) ، جناب محمود علی سحر ( نانڈیڑ ) جناب مشتاق احمد سہروردی ( گلبرگہ )جناب تمیز احمد پرواز ( نانڈیڑ ) ڈاکٹر شیخ زینت پروین ( بسمت نگر، مہاراشٹرا) اور محترمہ ناہید طاہر (گلبرگہ ) نے اپنی ادبی تخلیقات پیش کیں۔ جناب جاوید کمال ، مدیر ریختہ نامہ نے طنزو مزاح سے بھرپور انشائیہ ’’جلسہ کی صدارت… سستے کا سودا ‘‘ پیش کرکے موجودہ ادبی ماحول کی عکاسی کی۔ جناب صوفی سلطان شطاری کی صدارت میں مشاعرہ منعقدہوا۔ مہمان شعراٗء کے علاوہ جناب محبوب خان اصغر، لطیف الدین لطیف اور معین امر بمبو نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ بیرون ریاست کے مہمانوں کی صوفی سلطان شطاری نے شال پوشی کی۔ ادبی محفل کا آغاز قرات کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت کا نذرانہ بھی پیش کیا گیا۔آخر میں ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہدنے صوفی سلطان شطاری کی جانب سے آراستہ کی گئی اس ادبی و شعری محفل کو ایک یاد گار محفل قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف گزشتہ کئی دہوں سے علمی و ادبی سرگرمیوں کو انجام دیتے ہوئے سیاسی میدان میں بھی کافی سرگرم ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران انہوں نے قابل قدر خدمات انجام دیں ہیں۔

اسلام الدین مجاہد نے شعراء اور ادبیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ حالات حاضرہ پر بھی اظہار خیال کریں تاکہ معاشرہ اور ملک میں مثبت تبدیلی آ سکے۔