مانسون سیزن کیلئے جی ایچ ایم سی کا سخت فیصلہ ، فوجداری مقدمات اور جرمانے
حیدرآباد۔ 17 جون (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے مانسون کے آغاز کے باوجود شہر میں سڑکوں کی بلاروک ٹوک کھدوائی کرنے والی ایجنسیوں اور اداروں ے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس سلسلے میں خصوصی سرکلر جاری کیا جارہا ہے جس کے تحت اب بغیر اجازت سڑک کھودینے والوں کے خلاف پولیس اسٹیشن میں فوجداری مقدمہ درج کروایا جائے گا اور بھاری جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے۔ شہر میں دیکھا جارہا ہے کہ بارش کا موسم شروع ہونے کے بعد بھی کئی مقامات پر پانی کی پائپ لائنوں، برقی کے کیبلس اور ٹیلیکام لائنوں کے نام پر سڑکیں کھود کر یوں ہی چھوڑ دیئے جارہے ہیں۔ بارش کے دوران ان گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے آئے دن سنگین حادثات پیش آرہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے بار بار انتباہ دینے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کے بعد اب کارپوریشن نے سخت قانونی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے اصول کے مطابق سڑکوں کی کھدائی پر اب خصوصی نظر رکھی جائے گی۔ سرکل کی سطح پر ڈپٹی کمشنرس کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ بغیر اجازت سڑک کھودنے والوں کے خلاف فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائیں۔ اب سے سڑک کھودنے سے پہلے نہ صرف باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگا بلکہ کام مکمل ہونے کے فوری بعد سڑک کی دوبارہ مرمت کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر بھاری جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ 10 میٹر تک کی کھدائی کیلئے پرمٹ جاری کرنے کا اختیار سرکل ایگزیکٹیو انجینئر (EE) کے پاس ہوگا۔ 15 میٹر تک کھدوائی کیلئے موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ سپرنٹنڈنٹ انجینئر کرے گا اور اجازت جاری کرے گا۔ کام مکمل ہونے کے بعد یہ فائیل بحالی کے کاموں کیلئے ہیڈآفس بھیجی جائے گی۔ اگر 15 میٹر سے زیادہ سڑک کی کٹائی کی اجازت طلب کی جائے تو فیلڈ لیول کا معائنہ لازمی ہوگا اور رپورٹ منظوری کیلئے ہیڈآفس کے ذریعہ چیف انجینئر کو بھیجی جائے گی۔JM2 m/n/