حیدرآباد میں بھی مخالف الیکشن کمیشن مہم میں شدت کا امکان

   

اندرا پارک کے قریب طلباء تنظیموں کا مظاہرہ ۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی منصوبہ بندی

حیدرآباد 11 اکٹوبر(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کے خلاف شروع ہوئی مہم مختلف ریاستوں اور شہروں کے بعد اب حیدرآباد میں بھی شدت اختیار کرنے لگی ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج میں شدت کے امکانات کے تحت چوکسی اختیار کی جارہی ہے۔ دہلی میں پولیس مظالم ‘ احتجاجی طلبہ ‘ سیاستدانوں‘ سماجی جہدکاروں ‘ صحافیوں کے علاوہ جنتر منتر کے قریب پہنچنے والوں کو حراست میں لینے کے خلاف شہر میں بھی احتجاجی ریالیاں نکالنے کے ساتھ S.I.R کو رد کرنے اور گیانیش کمار کو برطف کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ کل سوندریا وگنان کیندرباغ لنگم پلی سے اشوک نگر اور دیگر علاقوں میں نکالی جانے والی ریالیوں کے بعد آج تمام طلبہ تنظیموں نے اندرا پارک کے قریب بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کرکے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے اور دونوں شہروں میں احتجاجی پروگرامس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فہرست رائے دہندگان سے ناموں کو حذف کرنے کے معاملہ میں اس احتجاج میں شدت پیدا نہ ہونے کی مختلف گوشوں سے شکایت کی جا رہی تھی اور کہا جا رہاتھا کہ تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں کوئی مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن اب جبکہ دہلی میں حالات انتہائی سنگین موڑ اختیار کرچکے ہیں تو حیدرآباد کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کی تنظیموں کی جانب سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی معطلی اور ان کے خلاف کاروائی کے مطالبہ میں شدت پیدا کرنے اور یونیورسٹی کیمپس کے علاوہ شہر کے مصروف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرنے اور انہیں اس تحریک سے جوڑنے مہم چلانے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ بتایا گیا کہ شہر میں موجود مرکزی جامعات و ریاستی جامعات میں طلبہ تنظیموں اور ان کے قائدین کے علاوہ سرگرم جہدکاروں کی سرگرمیوں پر پولیس کی جانب سے گہری نظر رکھنے اقدامات کئے جانے لگے ہیں تاکہ کسی طرح کے نظم و ضبط کے مسائل پیدا نہ ہوں ۔ تلنگانہ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملہ سے دوری پر بھی متعدد گوشوں سے اعتراض کیا جانے لگا ہے جبکہ تلنگانہ کی اپوزیشن جماعت بھارت راشٹرسمیتی نے گذشتہ دو یوم سے اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال شروع کردیا ہے اور ذرائع کے مطابق بی آر ایس قائدین بھی گیانیش کمار کے خلاف کاروائی کے مطالبہ میں شدت پیدا کرنے کے علاوہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے کے متعلق غور کر نے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں بی آر ایس سیاسی اعتبار سے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کا آغاز کرتی ہے اور طلبہ اور تنظیموں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو ریاست میں احتجاج میں مزید شدت پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔3