سمنٹ روڈ کی ڈامبر سے مرمت، حادثات میں اضافہ، چیف منسٹر شہر کا اچانک دورہ کریں
حیدرآباد۔/4 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد شہر کو سنگاپور اور ڈلاس کی طرز پر ترقی دینے سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے دعوے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے کان خوش کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے معاملہ میں حکومت اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ حیدرآباد کو کچرے سے پاک شہر بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن آج شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار حکومت کے دعوؤں کو منہ چڑا رہے ہیں۔ حکومت نے حیدرآباد کی سڑکوں کو آئینہ کی طرح بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن گذشتہ آٹھ برسوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر تو دور کی بات ہے موجودہ سڑکوں کی نگہداشت پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ سڑکوں کی تعمیر کے معاملہ میں ’’ کمیشن‘‘ کا کھیل زیادہ نظر آتا ہے۔ مقامی عوامی نمائندوں سے لے کر عہدیداروں اور علاقہ کے سیاسی قائدین کی جیب گرم کرنے کیلئے وقفہ وقفہ سے سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کیا جاتا ہے اور غیر معیاری کام کے نتیجہ میں چند ہفتوں میں سڑکیں دوبارہ اپنی اصلی حالت میں واپس آجاتی ہیں۔ سڑکوں کی ابتر صورتحال کے معاملہ میں پرانے اور نئے شہر کی کوئی تفریق باقی نہیں رہی ہے۔ دونوں علاقوں میں جگہ جگہ ناقص سڑکیں عوام کیلئے مصیبت کا باعث بن چکی ہیں اور جابجا گڑھوں کے سبب ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پختہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے سمنٹ اور کنکریٹ کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن فی الوقت حیدرآباد میں کام چلاؤ سڑکوں کی تعمیر ہورہی ہے جس کے تحت ڈامبر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکیں بچھانے کیلئے جو ڈامبر استعمال کیا جارہا ہے وہ بھی ملاوٹ شدہ ہے جس کے نتیجہ میں بمشکل دو ہفتوں میں ڈامبر اپنی گرفت چھوڑ دیتا ہے اور سڑکوں پر گہرے کھڈ عوام بالخصوص ٹو وہیلر گاڑیوں کیلئے وبال جان بن جاتے ہیں۔ پرانے شہر میں سڑکوں کی ابتر صورتحال کے بارے میں سابق میں سیاسی قائدین کہا کرتے تھے کہ اگر اس سڑک سے کسی مریض کو رکشا میں گذار دیا جائے تو ہاسپٹل پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت واقع ہوجائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈامبر کی سڑکوں کو بچھانے کیلئے کمیشن حاصل کرنے کی دوڑ میں کئی اچھی سڑکوں کو برباد کردیا جاتا ہے۔ سمنٹ کی مضبوط سڑکوں پر ڈامبر بچھا کر بھاری بلز حاصل کئے جارہے ہیں اور اس طرح کی سرگرمیوں سے نہ صرف بلدی حکام بلکہ کنٹراکٹر اور مقامی عوامی نمائندوں کا فائدہ ہورہا ہے۔ کسی بھی سڑک کی مرمت کیلئے سڑک کے مطابق میٹریل ضروری ہے لیکن یہاں تو سمنٹ کی سڑکوں کی مرمت ڈامبر سے کی جاتی ہے جس سے کوئی گرفت باقی نہیں رہتی۔ نامپلی، معظم جاہی مارکٹ، افضل گنج سے لے کر ساؤتھ زون کے علاقوں کا سروے کیا جائے تو سڑکوں کی ناگفتہ بہہ صورتحال کا پتہ چلے گا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ عوامی نمائندے اور اعلیٰ عہدیدار بھی اسی راستہ سے گذرتے ہیں لیکن ان کی قیمتی گاڑیوں میں ناہموار سڑکوں اور گڑھوں سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر عہدیدار اور عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں ٹووہیلر گاڑیوں یا پھر آٹو کے ذریعہ سفر کریں تو اندازہ ہوگا کہ عام آدمی کی دشواریاں کس حد تک ہیں۔ کئی ماہ سے پرانے شہر میں تباہ حال سڑکیں مرمت کی منتظر ہیں۔ حال ہی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سڑکوں کی تعمیر پر اجلاس طلب کیا اور عہدیداروں کو آئینہ کی طرح سڑکوں کی تعمیر کی ہدایت دی۔ سڑکیں آئینہ تو شاید کبھی نہ بن سکیں لیکن اگر ناہموار راستوں کو گڑھوں سے پاک کردیا جائے تو یہ بھی حکومت کی جانب سے عوام کی بہتر خدمت تصور کی جائے گی۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کو سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے معاملہ میں درپردہ اسکام پر نظر رکھنی ہوگی۔ تعلیمی اداروں، دواخانوں اور سرکاری دفاتر کے اطراف کی سڑکیں زیادہ تر ناقص اور تباہ حال پائی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں حادثات سے اموات واقع ہورہی ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں یہ روایت رہی کہ چیف منسٹر وقفہ وقفہ سے شہر کا اچانک دورہ کرتے ہوئے ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے رہے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں کے سی آر نے خود کوفارم ہاوز یا پھر پرگتی بھون تک محدود کرلیا ہے اور پرانے شہر میں ابتداء میں کئے گئے دورے کے موقع پر جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کا آج تک جائزہ نہیں لیا گیا۔ر