حیدرآباد میں تعمیر کردہ زیر زمین ٹینکس عوام کیلئے مصیبت بن گئے

   

موٹرس خراب ، کیچڑ سے بند پائپ لائنس ، عوام کے کروڑوں روپئے کا فضول خرچ
حیدرآباد 16 جون ( سیاست نیوز) : گریٹر حیدرآباد میں بارش کے پانی اور سیلابی صورتحال کا مستقل حل فراہم کرنے کے نام پر عوام کے کروڑوں روپئے پانی کی طرح بہا دئیے گئے ۔ لیکن نتیجہ بے سود رہا ۔ شہر کو سیلاب سے بچانے لاکھوں لیٹر گنجائش کے ساتھ تعمیر ’ واٹر ہولڈنگ اسٹرکچرس ‘ ( زیر زمین ٹینک ) حکام کی مسلسل غفلت اور عدم دیکھ بھال کے باعث معمولی بارش میں ناکام ہوگئے ۔ گذشتہ سال جن پراجکٹس کو بڑے دعوؤں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا مانسون کی پہلی بارش نے ان کے انتظامات کا پردہ فاش کردیا اور شہر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ عہدیداروں نے شہر کے ان 12 اہم مقامات پر جو معمولی بارش میں زیر آب آجاتے ہیں تجرباتی بنیادوں پر زیر زمین پانی کے تالاب ( سیس پول ) تعمیر کئے تھے ان مقامات میں سکریٹریٹ کے سامنے ۔ راج بھون روڈ ، اور کے پی سی جنکشن جیسے مصروف ترین علاقے شامل ہیں ۔ ان اسٹرکچرس کو اس مقصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا تھا کہ ان میں 10 لاکھ سے 40 لاکھ لیٹر تک سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاسکے اور بعد میں ہائی کیپاسٹی موٹرس کے ذریعہ اس پانی کو بتدیج نکاسی کے نظام ( ڈرینج ) میں چھوڑ دیا جائے ۔ لیکن محکمہ انجینئرنگ کے عہدیدار مانسون سے قبل ان کی دیکھ بھال کرنا بھول گئے جس سے یہ اب شہریوں کیلئے مزید پریشانی کا باعث بن رہے ہیں ۔ پہلی ہی بارش کے دوران عین ان ہی مقامات پر گھنٹوں پانی جمع رہا جہاں یہ واٹر ہولڈنگ اسٹرکچرس بنائے گئے تھے ۔ سیس پولس میں جمع پانی کو باہر پمپ کرنے لگائی گئی اعلیٰ صلاحیت کی موٹرس کئی مقامات پر ناکارہ پائی گئیں جب کہ کئی مقامات پر دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بالکل خراب ہوچکی ہیں ۔ نالوں سے جڑی پائپ لائنوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ ان پائپوں میں بڑی مقدار میں کیچڑ ، پلاسٹک اور دیگر کچرا جمع ہے ۔ جس نے پانی کا راستہ روک دیا ہے ۔ سڑکوں کے سیلابی پانی کو زیر زمین تالابوں تک پہونچانے جو لوہے کی گرلس لگائی گئی تھی وہ مٹی اور کچرے سے مکمل بند ہوچکی ہے ۔ قواعد کے مطابق مانسون کے آغاز سے پہلے ہی ان تمام اسٹرکچرس کا معائنہ اور صفائی مکمل کرلی جانی چاہئے تھی ۔ لیکن بلدیہ حکام کی لاپرواہی سے یہ کام کاغذی دعوؤں تک محدود رہا ۔ پہلی بارش کے بعد ابتر صورتحال پر شہر کے عوام اور گاڑی چلانے والوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے ۔۔ 2/k/b