شی ٹائیلٹس کے بند ہونے سے سیاحوں کو دشواری، تاریخی چارمینار کے قریب پراجکٹ ناکام ثابت ہوا
حیدرآباد۔/22 فروری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں حکومت ٹائیلٹس کی تعداد میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن موجودہ ٹائیلٹس کی بیشتر تعداد ناقابل استعمال ہوچکی ہے اور ان میں کئی ایسے ہیں جو تعمیر کے بعد سے ہی استعمال میں نہیں آئے۔ حکومت نے 4 سال قبل خواتین کی سہولت کیلئے شہر کے مرکزی مقامات پر شی ٹائیلٹس کا قیام عمل میں لایا تھا لیکن مینٹننس کی کمی کے سبب یہ ٹائیلٹس خواتین کیلئے ناقابل استعمال ہوچکے ہیں اور بہتری کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ چارمینار، گولکنڈہ ، ٹولی چوکی، فلم نگر، شیخ پیٹ، یوسف گوڑہ اور کلیان نگر میں 7 سے زائد ایسے ٹائیلٹس کا پتہ چلا جو انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور بلدی حکام کو سدھار کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مینٹننس اور خاص طور پر صحت و صفائی کے ناقص انتظامات اور پانی کی عدم سربراہی کے نتیجہ میں چارمینار کے قریب شی ٹائیلٹس کو ایک سال قبل بند کردیا گیا۔ تاریخی چارمینار کا مشاہدہ کرنے کیلئے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں سیاح پہنچتے ہیں جن میں خواتین کی قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے اور انہیں حوائج ضروریہ کیلئے ہوٹلوں کی تلاش کرنی پڑ رہی ہے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سیاحوں کی سہولتوں کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جس وقت شی ٹائیلٹس قائم کئے گئے تھے جی ایچ ایم سی حکام نے بلند بانگ دعوے کئے اور سیاحوں کے علاوہ خرید و فروخت کیلئے آنے والی خواتین کی سہولت کا دعویٰ کیا گیا ۔ عہدیداروں کے مطابق صحت و صفائی اور ماحولیات کے تحفظ کے مقصد سے ہر ٹائیلٹ کی تعمیر پر 7.3 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے۔ ایک، دو اور پانچ روپئے کے سکوں کے استعمال کے ذریعہ ٹائیلٹس سے استفادہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی لیکن بیشتر مقامات پر یہ مشین ناکارہ ہوچکے ہیں۔ ٹینک بنڈ اور بیگم پیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب موجود مرد حضرات کے ٹائیلٹس بھی ناقابل استعمال ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام ٹائیلٹ کے باہری علاقہ میں ضرورت سے فارغ ہورہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ گندگی سے بچاؤ کیلئے عوامی ٹائیلٹس کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن حکام کی لاپرواہی کے سبب علاقہ میں مزید گندگی پیدا ہورہی ہے۔ حکومت نے کھلے مقامات پر ضرورت سے فارغ ہونے پر جرمانہ مقرر کیا ہے لیکن شہر میں اس کے نفاذ کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ جہاں کہیں بھی سرکاری ٹائیلٹس موجود ہیں بیرونی علاقہ میں لوگوں کو کھلے عام فارغ ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کھلے عام حوائج ضروریہ کو روکنے کیلئے حیدرآباد میں 2173 ٹائیلٹس تعمیر کئے گئے جن میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب یکے بعد دیگرے ناقابل استعمال بنتے جارہے ہیں۔ ر