ایل نینو اور بارش کی کمی کا قہر، سنگوراورنا گرجنا ساگر میں پانی کی سطح گھٹ گئی، بورویلز خشک ہوگئے
حیدرآباد۔ 22 ستمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں پر پینے کے پانی کا شدید بحران منڈلانے لگا ہے۔ ایل نینو (EI Nino) کے اثرات اور رواں موسم میں متوقع بارش کی شدید کمی کے باعث شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے تمام اہم پراجکٹس اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے۔ واٹر بورڈ کے حکام اور ماہر بن کے مطابق شہر کو سپلائی فراہم کرنے والے تمام ذخائر آب میں مشترکہ طور پر 80 دنوں کے لئے کافی پینے کا پانی باقی بچا ہے۔ اگر آئندہ چند ہفتوں کے دوران موسلادھار بارش نہیں ہوتی ہے تو ڈسمبر کے اواخر تک حیدرآباد کو شدید ترین پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہر کو پانی فراہم کرنے والے اہم ترین سنگور پراجکٹ میں پانی کی سطح میں نمایاں اور تشویشناک کمی درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ناگرجنا ساگر اور ایلم پلی پراجکٹس کی حالت بھی تشویشناک ہے جہاں انتہائی تشویش صورتحال کے پیش نظر ڈیڈا ٹوریج سے ایمرجنسی پمپنگ کے ذریعہ پانی اٹھانے کی نوبت آسکتی ہے۔ زیر زمین پانی کا لیول تیزی سے گرنے اور بورویلز کے مکمل طور پر خشک ہو جانے کی وجہ سے شہر کے سلم علاقوں، بستیوں اور مضافاتی میونسپلٹیز میں قیام پذیر شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ نلوں کے ذریعہ پانی سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ واٹر ٹینکرس کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حیدرآباد واٹر بورڈ کی جانب سے ناکافی پینے کے پانی کی سپلائی اور ٹینکرس کی تاخیر پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ عوام کی جانب سے انتظامی عدم توجہی اور ناقص منصوبہ بندی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں پانی کے بحران کو قابو میں رکھنے کے لئے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے عہدیداروں نے متبادل منصوبے کے طور پر مشن بھگیرتا سے پانی کو حیدرآباد منتقل کرنے کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ 2؍F