حیدرآباد کو 2072 تک پینے کے پانی کی کوئی قلت نہیں رہے گی

   

1450 کروڑ روپئے کے مصارف، سنکشیلا انٹیک ویل کا سنگ بنیاد، کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 مئی (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ شہر حیدرآباد کو 2072 تک پینے کے پانی کی کوئی قلت نہیں رہے گی۔ خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کام کررہی ہے۔ ضلع نلگنڈہ کے ناگرجنا ساگر کے پاس سنکشیلا انٹیک ویل کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مسلسل 7 سال سے خشک سالی کے باوجود پینے کے پانی کی کوئی قلت نہیں ہوئی، جس کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حیدرآباد کے اطراف و اکناف واٹر پائپ لائن بچھائی گئی ہیں۔ مستقبل میں شہر حیدرآباد 100 کیلو میٹر تک پھیل جائے گا۔ پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کیا جارہا ہے۔ آوٹر رنگ روڈ کے اندرونی اور بیرونی علاقوں کے عوام کو پینے کا پانی سربراہ کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے۔ وزیربلدی نظم و نسق نے کہا کہ اضلاع حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل کے عوام کیلئے آج جشن کا دن ہے۔ میٹرو واٹر سپلائی سیوریج بورڈ کے زیراہتمام 6 ہزار کروڑ روپئے کے ترقیاتی کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ فی الحال حیدرآباد میں پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے 37 ٹی ایم سی پانی کی ضرورت ہے۔ سال 2072 تک کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے مزید 34 ٹی ایم سی پانی کا انتظام کیا جارہا ہے۔ تب تک جملہ 71 ٹی ایم سی پانی کی ضرورت پڑے گی۔ سنکشیلا میں 1450 کروڑ روپئے کے تخمینہ سے پینے کے پانی کی ضرورت کے لحاظ سے پمپ سیٹس، موٹرس کے علاوہ مزید 16 ٹی ایم سی پانی لفٹ کرنے کے کاموں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ موسم گرما تک اس پراجکٹ کو مکمل کرتے ہوئے حیدرآباد کے عوام کو پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا۔ن