حیدرآباد کی جیوٹیاگنگ ، مکانات کی ڈیجیٹل نمبر اندازی کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا

   

شہر کو عالمی آئی ٹی مرکز میں تبدیل کرنے کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت
حیدرآباد۔ حیدرآباد کی جیو ٹیاگنگ اور تمام مکانات کے پتوں کو آسان بنانے کے لئے ڈیجیٹل مکان نمبرات الاٹ کرنے کے سلسلہ میں تیار کیا گیا منصوبہ کہاں گیا! شہرحیدرآباد میں 2016 بلدی انتخابات کے دوران شہریوں کو راغب کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ حیدرآباد کو ٹکنالوجی سے آراستہ اور عالمی معیار کے شہر میں تبدیل کرنے کیلئے شہر حیدرآباد کے تمام مکانوں کی جیو ٹیاگنگ کے علاوہ ان کو ڈیجیٹل مکان نمبرات کی فراہمی کے ذریعہ بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ریاستی حکومت اورمجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئے گئے اس وعدہ کو پورا تو نہیں کیاجاسکا ہے مگر جی ایچ ایم سی عہدیدارو ںکا کہناہے کہ کارپوریشن کی جانب سے یہ عمل جاری ہے اور جلد ہی اس کی تکمیل عمل میں لائی جائے گی۔ شہر حیدرآباد کو انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے اور شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر میں تبدیل کرنے کے کئی وعدے اور اعلانات کئے گئے تھے لیکن عملی میدان میں ان اعلانات کا جائزہ لیا جائے تو نتائج صفر ہیں ۔

شہر حیدرآباد کے مکینوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی ‘ صیانتی سہولتوں اور حفاظت کے اصولوں کو بہتر بنانے کے لئے حیدرآباد میں سی سی کیمروں کی تنصیب کے اعلانات کئے گئے اور شہر کے کئی مقامات پر سی سی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی گئی لیکن جس تعداد کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اس تعداد کو دکھانے کے لئے خانگی سی سی ٹی وی کیمرو ں کوبھی شمار کیا جانے لگا ہے۔ مکان نمبرات کو ڈیجیٹل کرنے کے علاوہ پتہ کو آسان بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے چیف سٹی پلانر کی سطح پر منصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا لیکن اس منصوبہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا جبکہ سابق ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے شہر حیدرآباد میں مکان نمبرات کے طریقہ کو تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی ترقی یافتہ شہر میں اس طرح کے مکان نمبرات نہیں ہوا کرتے اسی لئے شہر حیدرآباد کو ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں شمار کروانے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو سب سے پہلے مکان نمبرات کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے آسان پتہ یقینی بنائیں ۔ سال 2017کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدارو ںنے بتایا تھا کہ جلد ہی ڈیجیٹل مکان نمبرات کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے گا لیکن دو سال گذرنے کے باوجود بھی اس سلسلہ میں کوئی پہل نہیں کی جاسکی۔