جھیلوں کے تحفظ کیلئے چیف منسٹر کے اقدامات کا خیرمقدم ، مجالس مقامی کے مسائل پر عنقریب حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔/3 ستمبر، ( سیاست نیوز) رنگاریڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور میونسپل صدورنشین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے جھیلوں اور تالابوں کے تحفظ کیلئے حیڈرا کے ذریعہ کی جارہی کارروائیوں کی تائید کی گئی۔ اجلاس میں میونسپل چیرپرسن نے بلدی علاقوں کے مسائل اور غیر مجاز تعمیرات سے ارکان اسمبلی کو واقف کرایا۔ اجلاس کا یہ احساس تھا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے غیر مجاز تعمیرات کے خلاف حیڈرا کے ذریعہ جن کارروائیوں کا آغاز کیا ہے ان کی مکمل تائید کی جاتی ہے۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ حیڈرا کی کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے جھیلوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے مجالس مقامی کو نظرانداز کردیا تھا اور فنڈز کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں ترقیاتی کام متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز تعمیرات کیلئے سابق بی آر ایس حکومت ذمہ دار ہے۔ میونسپل حدود میں ایچ ایم ڈی اے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے بلدیات سے این او سی کی اجرائی کا مشورہ دیا گیا۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے ذریعہ ہر گھر کو پانی کی سربراہی کی تجویز پیش کرتے ہوئے اجلاس نے سابق نل کنکشن کو باقاعدہ بنانے کی اپیل کی۔ ارکان اسمبلی نے آبادی کے اعتبار سے بلدیات میں ملازمین کے تقرر کی سفارش کی۔ اجلاس میں زیر بحث مسائل کو چیف منسٹر ریونت ریڈی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی مال ریڈی رنگاریڈی، ٹی پرکاش گوڑ، وی شنکر، کے یادیا، روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین مال ریڈی رام ریڈی، میونسپل چیرپرسن شریمتی مال ریڈی انورادھا ریڈی، شریمتی پی نرسمہا ریڈی، شریمتی کے سشما مہیندر ریڈی، شمس آباد میونسپل چیرپرسن شریمتی شراونتی کے علاوہ ابراہیم پٹنم ، شاد نگر اور امنگل کے میونسپل چیرپرسنس نے شرکت کی۔1